بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی ایک سال میں کتنے گدھے کھاگئے , جاویدچوہدری کے تہلکہ انگیزانکشافات

datetime 8  جون‬‮  2015 |

یہ گوشت کہاں جاتا ہے؟ اس گوشت کا 80 فیصد حصہ ان سرکاری محکموں کے ”میس“ میں چلا جاتا ہے جو ”بلک“ میں گوشت خریدتے ہیں یا وہ بڑے ہوٹل‘ بڑے ریستوران اور گوشت کی وہ بڑی چینز جو روزانہ سینکڑوں من گوشت خریدتی ہیں‘ یہ گوشت انہیں سپلائی ہو جاتا ہے‘باقی بیس فیصد گوشت مارکیٹوں میں پہنچ جاتا ہے‘ گدھا اگر کٹا ہوا ہو‘ اس کی کھال اتری ہوئی ہو اور یہ قصاب کی دکان پر الٹا لٹکا ہو تو آپ خواہ کتنے ہی ماہر کیوں نہ ہوں آپ گدھے کو پہچان نہیں سکیں گے ‘ آپ کو وہ گدھا قصاب کی دکان پر بکرا‘ گائے کا بچھڑا یا پھر بھینس کا بچہ ہی محسوس ہو گا‘ کراچی‘ لاہور اور راولپنڈی کے چند کاریگر قصاب مزید فنکاری کرتے ہوئے گدھے کی ننگی گردن کے ساتھ بچھڑے کی سری لٹکا دیتے ہیں‘ یوں مرحوم گدھا دیکھنے والوں کو گدھا محسوس نہیں ہوتا‘ یہ بچھڑا لگتا ہے۔یہ معلومات کس حد تک درست ہیں‘ ہم اب اس سوال کی طرف آتے ہیں‘ مجھے ابتدائی معلومات اس مکروہ دھندے سے وابستہ ایک شخص نے دیں‘ یہ شخص توبہ تائب ہو گیا‘ اس نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اور مجھ سے رابطہ کیا‘ اس کا دعویٰ تھا ملک کے تمام مقتدر عہدیدار اس وقت تک گدھے کا گوشت کھا چکے ہیں کیونکہ مکروہ کاروبار سے وابستہ لوگ جان بوجھ کر ان ایوانوں میں گوشت پہنچا رہے ہیں جو ملکی پالیسیاں بناتے ہیں‘ اس صاحب کا دعویٰ تھا یہ لوگ اس سلوک کے حق دار ہیں کیونکہ ملک میں اچانک گدھوں کی کھال کی ڈیمانڈ بڑھ گئی‘ ملک سے گدھے کم ہونے لگے اور گوشت کی قیمتوں میں کمی ہوگئی لیکن یہ لوگ خواب غفلت کے مزے لوٹتے رہے‘ ان میں سے کسی نے کسی سے نہ پوچھا ”گدھوں کی کھالوں کی ایکسپورٹ میں کیوں اضافہ ہو رہا ہے؟ اور اس اضافے کے عوام پر کیا اثرات ہوں گے؟“چنانچہ یہ لوگ دو برسوں سے اس بے حسی کا نقصان اٹھا رہے ہیں‘ یہ جانتے ہی نہیں ان کی ڈائننگ ٹیبل اور ان کے کچن میں کیا ہو رہا ہے اور انہیں گوشت سپلائی کرنے والے ان کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔
یہ سطریں اگر وزیراعظم‘ صدر مملکت‘ وزیرخزانہ‘ سیکرٹری خزانہ‘ وزیر داخلہ‘ وزراءاعلیٰ اور ایف بی آر کے حکام تک پہنچ جائیں تو میری ان سے درخواست ہے‘ آپ فوری طور پر گدھوں کی کھالوں کی ایکسپورٹ کا

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…