جمعرات‬‮ ، 14 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاکستانی ایک سال میں کتنے گدھے کھاگئے , جاویدچوہدری کے تہلکہ انگیزانکشافات

datetime 8  جون‬‮  2015 |

یہ گوشت کہاں جاتا ہے؟ اس گوشت کا 80 فیصد حصہ ان سرکاری محکموں کے ”میس“ میں چلا جاتا ہے جو ”بلک“ میں گوشت خریدتے ہیں یا وہ بڑے ہوٹل‘ بڑے ریستوران اور گوشت کی وہ بڑی چینز جو روزانہ سینکڑوں من گوشت خریدتی ہیں‘ یہ گوشت انہیں سپلائی ہو جاتا ہے‘باقی بیس فیصد گوشت مارکیٹوں میں پہنچ جاتا ہے‘ گدھا اگر کٹا ہوا ہو‘ اس کی کھال اتری ہوئی ہو اور یہ قصاب کی دکان پر الٹا لٹکا ہو تو آپ خواہ کتنے ہی ماہر کیوں نہ ہوں آپ گدھے کو پہچان نہیں سکیں گے ‘ آپ کو وہ گدھا قصاب کی دکان پر بکرا‘ گائے کا بچھڑا یا پھر بھینس کا بچہ ہی محسوس ہو گا‘ کراچی‘ لاہور اور راولپنڈی کے چند کاریگر قصاب مزید فنکاری کرتے ہوئے گدھے کی ننگی گردن کے ساتھ بچھڑے کی سری لٹکا دیتے ہیں‘ یوں مرحوم گدھا دیکھنے والوں کو گدھا محسوس نہیں ہوتا‘ یہ بچھڑا لگتا ہے۔یہ معلومات کس حد تک درست ہیں‘ ہم اب اس سوال کی طرف آتے ہیں‘ مجھے ابتدائی معلومات اس مکروہ دھندے سے وابستہ ایک شخص نے دیں‘ یہ شخص توبہ تائب ہو گیا‘ اس نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اور مجھ سے رابطہ کیا‘ اس کا دعویٰ تھا ملک کے تمام مقتدر عہدیدار اس وقت تک گدھے کا گوشت کھا چکے ہیں کیونکہ مکروہ کاروبار سے وابستہ لوگ جان بوجھ کر ان ایوانوں میں گوشت پہنچا رہے ہیں جو ملکی پالیسیاں بناتے ہیں‘ اس صاحب کا دعویٰ تھا یہ لوگ اس سلوک کے حق دار ہیں کیونکہ ملک میں اچانک گدھوں کی کھال کی ڈیمانڈ بڑھ گئی‘ ملک سے گدھے کم ہونے لگے اور گوشت کی قیمتوں میں کمی ہوگئی لیکن یہ لوگ خواب غفلت کے مزے لوٹتے رہے‘ ان میں سے کسی نے کسی سے نہ پوچھا ”گدھوں کی کھالوں کی ایکسپورٹ میں کیوں اضافہ ہو رہا ہے؟ اور اس اضافے کے عوام پر کیا اثرات ہوں گے؟“چنانچہ یہ لوگ دو برسوں سے اس بے حسی کا نقصان اٹھا رہے ہیں‘ یہ جانتے ہی نہیں ان کی ڈائننگ ٹیبل اور ان کے کچن میں کیا ہو رہا ہے اور انہیں گوشت سپلائی کرنے والے ان کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔
یہ سطریں اگر وزیراعظم‘ صدر مملکت‘ وزیرخزانہ‘ سیکرٹری خزانہ‘ وزیر داخلہ‘ وزراءاعلیٰ اور ایف بی آر کے حکام تک پہنچ جائیں تو میری ان سے درخواست ہے‘ آپ فوری طور پر گدھوں کی کھالوں کی ایکسپورٹ کا

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…