منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

وفاقی حکومت کوعوام کا پیسہ واپس کرنیکاحکم

datetime 29  مئی‬‮  2015 |

لاہور (نیوزڈیسک) لاہور ہائی کورٹ نے بجلی کے بلوں پر عائد سرچارجز کو غیر قانونی ، غیر آئینی قرار دیکر وصولی روک دی جبکہ حکومت کو صارفین کے پیسے واپس کرنے کا پلان پیش کرنے کا حکم بھی دیدیا۔ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس منصورعلی شاہ اور جسٹس عائشہ اے ملک پر مشتمل دو رکنی بنچ نے بجلی بلوں پر عائد سرچارجز سے متعلق کیس کا فیصلہ سنایا ۔عدالت کے روبرو 269درخواست گزاروں نے بجلی کے بلوں پر عائد سرچارجز کو چیلنج کر رکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے نیپرا کی منظوری کے بغیر سرچارجز عائد کر دئیے ۔عدالت نے بجلی کے بلوں پر عائد ایکو لائزیشن سرچاج ، نیلم جہلم سرچارج ، ڈیٹ سروسنگ سرچارج ، یونیورسل فنڈ سرچارج کو غیرقانونی غیرآئینی قرار دے دیا جبکہ اس حوالے سے نیپرا کے سیکشن اکتیس (5)کو بھی غیرقانونی قرار دیا ۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو حکم دیا کہ تین ماہ میں صارفین کے پیسے واپس کرنے یا بجلی کے بلوں میں ایڈجسٹ کرنے کے لیے پلان پیش کریں ۔ عدالت نے فیصلے میں یہ بھی تحریر کیا کہ عوام کو بجلی کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ بجلی کی چوری ، لائن لاسز اور انتظامی نقصان کی وصولی عام شہریوں سے وصول کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ وفاقی حکومت نے عدالت سے اس فیصلہ کو معطل کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ قریب ہے ، فیصلے سے بجٹ متاثر ہوگا ۔ عدالت نے حکومتی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کے پاس رقم کی واپسی کیلئے تین ماہ کاوقت ہے۔اگر ان کو فیصلے پر اعتراض ہے تو وہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…