منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی کہ نہیں ؟،پیپلزپارٹی کے موقف نے سب کو چونکادیا

datetime 29  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)عام انتخابات 2013ء میں مبینہ منظم دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے انکوائری کمیشن نے پیپلز پارٹی کی درخواست پرتحریک انصاف سے جواب طلب کرلیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ صرف پنجاب میں ہی نہیں خیبرپختونخوامیں بھی ان کا مینڈیٹ چرایا گیا۔خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف نے عام انتخابات اکثریت حاصل کرکے صوبائی حکومت تشکیل دی ہے۔کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس ناصرالملک نے تحریک انصاف کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ سے کہا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے پنجاب کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخواہ میں بھی مینڈیٹ چرانے سے متعلق تحریری درخواست دائر کی گئی ہے اور وہ اپنے مو¿کل سے مشاورت کے بعد کمیشن میں اپنا جواب دائر کریں۔انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لئے قائم کئے گئے عدالتی کمیشن کے حوالے سے قانونی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پی پی کی جانب سے کمیشن کے سامنے نیا موقف اختیار کرنا حیران کن امر ہے کیونکہ اس سے قبل پی پی کی جانب سے کمیشن کو بتایا گیا تھا کہ وہ پی ٹی آئی کے فراہم کردہ گواہوں پر انحصار کریں گے۔پی پی کے وکیل اعتزاز احسن کی جانب سے کمیشن میں جمع کروائی جانے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اور کے پی میں عام انتخابات کے نتائج حیرت انگیز ہیں جہاں ریٹرننگ افسران اور پریزائیڈنگ افسران کے ذریعے سے انتخابات کے نتائج تبدیل کروائے گئے ہیں۔درخواست میں کمیشن سے کہا گیا ہے کہ دھاندلی کرنے والوں کو بے نقاب کرنا اس کمیشن کی ذمہ داری ہے۔پی پی نے الزام لگایا ہے کہ ان کو پنجاب اور کے پی سے باہر کرنے کے لیے ایسا منصوبہ بنایا گیا اور عام انتخابات میں ہونے والی دھاندلی ایک منظم سازش کے تحت کی گئی تھی۔گزشتہ روز ہونے والی کمیشن کی سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد پر اپنی جرح مکمل کرلی ہے۔اشتیاق احمد نے انکوائری کمیشن کو بتایا کہ اضافی بیلٹ پیپرز کی چھپائی میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔انہوں نے کہاکہ بیلٹ پیپرز کی حتمی چھپائی ریٹرننگ افسران کے پلان کے مطابق کروائی گئی تھی اور درکار بیلٹ پیپرز کی تعداد کے حوالے سے ریٹرننگ افسران کی ڈیمانڈ صوبائی الیکشن کمشنرز کو موصول ہوتی تھی۔سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد نے جرح کے دوران بتایا کہ عام انتخابات کے لیے بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ سے متعلق الیکشن کمیشن کا اجلاس ستمبر 2012 میں ہوا تھا جس میں 18 کروڑ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا اندازہ لگایا گیا۔انکوائری کمیشن کا اجلاس جمعہ کو دوبارہ ہوگا جب مسلم لیگ ن اور الیکشن کمیشن کے وکلاءسابق سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد پر جرح کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…