منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اسلامی نظریاتی کونسل کی عربی، فارسی اور مقامی زبانوں کی تعلیم کی سفارش

datetime 29  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل نے سفارش کی ہے کہ اسکول کی تعلیم کا آغاز مقامی زبان میں بچوں کی سات سال کی عمر سے کردینا چاہیے۔کونسل نے اپنی سفارشات میں یہ بھی کہا کہ بچوں کو عربی زبان بھی سکھائی جائے تاکہ وہ قرآن پاک کے بعض ابواب کے حقیقی مفہوم سے آشنا ہوسکیں۔پرائمری تعلیم پر اسلامی نظریاتی کونسل کے زیراہتمام منعقد ہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے یہ سفارشات پڑھ کر سنائیں، جس میں دوسری چیزوں کے ساتھ یہ بھی شامل تھا کہ پرائمری تعلیم میں اسلام کے بنیادی اصول، قرآن پاک، حدیث، فقہ اور مسلمانوں کی تاریخ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد کے ساتھ شامل کی جانی چاہیے۔مولانا شیرانی نے کہا ”ہم نے فارسی اور عربی زبانیں سکھانے کی تجویز دی ہے، اس کے ساتھ ساتھ طالبعلم اردو اور مقامی زبانوں پر دسترس حاصل کرسکتے ہیں۔“اسلامی نظریاتی کونسل کے سیمینار میں پانچویں جماعت تک پرائمری تعلیم پر غور کیا گیا۔ شرکائ نے 38 سفارشات کو حتمی صورت دی، جن میں سے ساتویں نمبر کی سفارش نصاب میں تبدیلی کی نو تجاویز پر مشتمل تھی۔ان تجاویز میں کہا گیا تھا کہ پانچویں جماعت تک کے طلباء کو قرآن پاک سے کہانیاں، برصغیر میں تحریکِ آزادی کی تاریخ، انسانی حقوق اور اس کے حوالے سے انفرادی ذمہ داریاں، تجربات اور تنقیدی سوچ کی صورت میں سائنس اور کردار کی تعمیر کے بارے میں پڑھانا چاہیے۔ان سفارشات میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ نصاب میں ریاضی کے اندر زکوٰ? اور وراثت کے ساتھ ساتھ دیگر موضوعات میں اسلامی تاریخ سے مثالیں شامل کی جانی چاہیے۔انہوں نے طلباءکی جسمانی نشونما پر توجہ مرکوز کرنے کی تجویز بھی دی، اور کہا کہ مذہبی مدرسوں کی تعلیم کو اسکولوں کے نصاب کے ساتھ منسلک کیا جانا چاہیے۔ان سفارشات میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ اگر پورے ملک یا صوبے کا ممکن نہ ہو تو کم از کم ایک شہر کے تمام اسکولوں میں یکساں یونیفارم ہونا چاہیے۔اس سیمینار میں سینئر ماہرِ تعلیم، ریٹائرڈ سرکاری افسران اور مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے مذہبی علماء نے شرکت کی۔مخلوط تعلیم کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں مولانا شیرانی نے کہا کہ طالبعلموں کی شعوری پختگی کے بعد ان کی مخلوط تعلیم کو جاری رکھنا اچھا خیال نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…