بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

اسلامی نظریاتی کونسل کی عربی، فارسی اور مقامی زبانوں کی تعلیم کی سفارش

datetime 29  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل نے سفارش کی ہے کہ اسکول کی تعلیم کا آغاز مقامی زبان میں بچوں کی سات سال کی عمر سے کردینا چاہیے۔کونسل نے اپنی سفارشات میں یہ بھی کہا کہ بچوں کو عربی زبان بھی سکھائی جائے تاکہ وہ قرآن پاک کے بعض ابواب کے حقیقی مفہوم سے آشنا ہوسکیں۔پرائمری تعلیم پر اسلامی نظریاتی کونسل کے زیراہتمام منعقد ہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے یہ سفارشات پڑھ کر سنائیں، جس میں دوسری چیزوں کے ساتھ یہ بھی شامل تھا کہ پرائمری تعلیم میں اسلام کے بنیادی اصول، قرآن پاک، حدیث، فقہ اور مسلمانوں کی تاریخ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد کے ساتھ شامل کی جانی چاہیے۔مولانا شیرانی نے کہا ”ہم نے فارسی اور عربی زبانیں سکھانے کی تجویز دی ہے، اس کے ساتھ ساتھ طالبعلم اردو اور مقامی زبانوں پر دسترس حاصل کرسکتے ہیں۔“اسلامی نظریاتی کونسل کے سیمینار میں پانچویں جماعت تک پرائمری تعلیم پر غور کیا گیا۔ شرکائ نے 38 سفارشات کو حتمی صورت دی، جن میں سے ساتویں نمبر کی سفارش نصاب میں تبدیلی کی نو تجاویز پر مشتمل تھی۔ان تجاویز میں کہا گیا تھا کہ پانچویں جماعت تک کے طلباء کو قرآن پاک سے کہانیاں، برصغیر میں تحریکِ آزادی کی تاریخ، انسانی حقوق اور اس کے حوالے سے انفرادی ذمہ داریاں، تجربات اور تنقیدی سوچ کی صورت میں سائنس اور کردار کی تعمیر کے بارے میں پڑھانا چاہیے۔ان سفارشات میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ نصاب میں ریاضی کے اندر زکوٰ? اور وراثت کے ساتھ ساتھ دیگر موضوعات میں اسلامی تاریخ سے مثالیں شامل کی جانی چاہیے۔انہوں نے طلباءکی جسمانی نشونما پر توجہ مرکوز کرنے کی تجویز بھی دی، اور کہا کہ مذہبی مدرسوں کی تعلیم کو اسکولوں کے نصاب کے ساتھ منسلک کیا جانا چاہیے۔ان سفارشات میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ اگر پورے ملک یا صوبے کا ممکن نہ ہو تو کم از کم ایک شہر کے تمام اسکولوں میں یکساں یونیفارم ہونا چاہیے۔اس سیمینار میں سینئر ماہرِ تعلیم، ریٹائرڈ سرکاری افسران اور مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے مذہبی علماء نے شرکت کی۔مخلوط تعلیم کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں مولانا شیرانی نے کہا کہ طالبعلموں کی شعوری پختگی کے بعد ان کی مخلوط تعلیم کو جاری رکھنا اچھا خیال نہیں ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…