بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

بیرون ممالک وفات پانےوالے پاکستانیوں کے لواحقین کےلئے بہترین فیصلہ

datetime 28  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) بیرون ممالک وفات پانے والے سمندر پارپاکستانیوں کے لواحقین کو درپیش مالی مشکلات اور مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے اوپی ایف بورڈ آف گورنرز نے مالی امداد کی گرانٹ 12کروڑ روپے سے بڑھا کر 20کروڑ روپے سالانہ کر دی ۔ جمعرات کو اوپی ایف بورڈ آف گورنرز کا 127واں اجلاس اوپی ایف ہیڈ آفس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت وفاقی وزیر وزارت سمندر پارپاکستانیز وترقی اانسانی وسائل پیر سید صدرالدین شاہ راشدی نے کی۔اجلاس میں وفاقی سیکرٹری سکندر اسماعیل خان،سیکرٹر ی خارجہ اعزاز احمد چوہدری،سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) محمد عالم خٹک،منیجنگ ڈائریکٹر اوپی ایف حبیب الرحمن خان اور بیرون ممالک سے بورڈ کے ممبران بشمول سید طیب حسین،شیخ صلاح الدین ایم این اے، مسعود ایم خان،محمد اصغر قریشی،راجہ لیاقت علی،سید قمر رضا،محمد اکرم ایوب چوہدری اور سٹیٹ بینک آف پاکستان،فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمشن آف پاکستان کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور ان کے لواحقین کے لئے اوپی ایف کی فلاح وبہبود کی سرگرمیوں اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا ۔اجلاس میں اوپی ایف ویلی زونVپر جاری ترقیاتی امور کا بھی جائزہ لیا گیا اور ترقیاتی امور میں تیزی لانے پر انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہا گیا ۔بورڈ نے اوپی ایف ویلی زونVسے ملحقہ گلبرگ ہاﺅسنگ سوسائٹی کی مرکزی روڈ کی جانب سے اوپی ایف کی ہاﺅسنگ سکیم کے لئے راستے سے متعلق تجویز کی منظوری دی جس سے زیرو پوائنٹ سے اوپی ایف ویلی زون Vتک فاصلے میں 8کلومیٹر کمی واقع ہوگی۔بورڈ نے ایف ڈبلیو او کو اگلے دوماہ میں پراجیکٹ پر جاری ترقیاتی امور مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔بورڈ نے اوپی ایف کی جانب سے یمن سے واپس آنے والے سمندر پارپاکستانیوں کو دی جانے والی سہولیات کو سراہا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ یمن سے واپس آنے والے سمندر پارپاکستانیوں کے استقبال کے لئے اوپی ایف نے خصوصی انتظامات کئے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ اوپی ایف نے یمن سے واپس آنے والے سمندر پارپاکستانیوں کو کراچی اور اسلام آباد کے ہوائی اڈوں اور کراچی کی بندرگاہ پر مفت ٹرانسپورٹ کی سہولت ،کھانا اور کرایہ فراہم کیا۔اجلاس کے دوران اوپی ایف کے تعلیمی اداروں سے متعلق امور پر بھی غورخوض کیا گیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…