منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ملک میں غیرقانونی یونیورسٹیوں کی تعداد قانونی یونیورسٹیوں سے زیادہ

datetime 28  مئی‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک )وفاقی حکومت کی عدم توجہی کے سبب ملک میں کام کرنے والی غیرقانونی جامعات اوران کے کیمپسز کی تعدادقانونی جامعات اوران کے کیمپسز سے تجاوز کرگئی ہے اور چاروں صوبوں میں وفاقی وصوبائی حکومتوں کی بغیرمنظوری اورایچ ای سی سے غیرتسلیم شدہ جامعات وانسٹی ٹیوٹس کے کیمپس کی تعداد173تک جاپہنچی ہے جبکہ چاروں صوبوں اورآزادجموں کشمیرمیں ایچ ای سی کی تسلیم شدہ جامعات اورانسٹی ٹیوٹس کی تعداد169ہے جس میں سرکاری و نجی تعلیمی ادارے شامل ہیں۔ایچ ای سی کی منظوری کے بغیرکام کرنے والے یونیورسٹیوں کے کیمپسز لاہور، راولپنڈی،ملتان، ایبٹ آباد، پشاور، اسلام آباد، رحیم یارخان، سوات، چنو، آزادجموں کشمیرکے علاوہ دیگرشہروں میں بھی قائم ہیں۔ قابل ذکرامریہ ہے کہ ملک میں ایچ ای سی سے تسلیم شدہ سرکاری ونجی جامعات اورانسٹی ٹیوٹس کی تعداد169ہے جن میں 97سرکاری اور72غیرسرکاری ادارے ہیں، ان اداروں کے تسلیم شدہ کیمپسز کی تعداد 93ہے،سرکاری اداروں کے 65کیمپس اورنجی اداروں کے 28 کیمپس ہیں جبکہ متعدد اداروں کے کیمپس این اوسی کے بغیرہی کام کررہے ہیں۔ یادرہے کہ ڈاکٹرعطا الرحمن اورڈاکٹرلغاری کے دورمیں اس سلسلے میں ایچ ای سی کی جانب سے باقاعدہ طورپرعوامی آگاہی مہم چلائی گئی تھی۔ایچ ای سی سے تسلیم شدہ سرکاری تعلیمی اداروں میں وفاق میں24، پنجاب میں24، سندھ میں19، خیبرپختونخوا میں19، بلوچستان میں 6اورازاد جموں کشمیرمیں5ادارے شامل ہیں جبکہ تسلیم شدہ غیرسرکاری جامعات وانسٹی ٹیوٹس میں وفاق میں6، پنجاب میں24، سندھ میں29، خیبرپختونخوامیں10، بلوچستان میں ایک اورکشمیرمیں 2ادارے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…