منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ایک صحافی کی طاقت

datetime 28  مئی‬‮  2015 |

ہم نہ ہی کوئی فیصلہ دے سکتے ہیں اور نہ ہی دینا چاہیے۔ پاکستانی صحافیوں کو تحقیقاتی خبروں کے معاملے میں اکثر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، یہاں تک کہ اگرمالیاتی اسکینڈل اور مشکوک کے بارے میں ہی کیوں نہ ہوں۔ ہمارے تمام وسائل اور افرادی قوت کے باوجود بمشکل ہی کوئی ’ تحقیقاتی ڈیسک‘ ہے۔پھر بھی تحقیقاتی صحافت سے منسلک کچھ صحافی کئی سالوں سے اکثر بڑی خبریں لاتے ہیں لیکن ان میں انہیں خطرے کا سامنا ہوتا ہے اور ادارے کی حمایت یا پشت پناہی حاصل نہیں ہوتی۔ مشکوک کاروبار بے نقاب کرنے کے بعد کچھ صحافی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔گزشتہ تین دہائیوں میں ہم نے لوگوں کو راتوں رات ارب پتی بنتے دیکھا لیکن گزشتہ 12سال میں یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ میڈیا کے کاروبار میں لوگ عوام کی خدمت یا انہیں مطلع کرنے کےلیے نہیں بلکہ اپنے کاروباری مفادات کو بچانے کےلیے میڈیا کو استعمال کرتے ہیں ، اس عمل میں انہوں نے ان میڈیا ہاﺅسزکو نقصان پہنچانے کی بھی کوشش کی ، جوکہ تقسیم ہند سے قبل میڈیا کے کاروبار سے وابستہ ہیں ، جب وقت لوگ میڈیا سے پیسے کےلیے نہیں بلکہ جذبے کے تحت منسلک ہوتے تھے۔ گزشتہ دوہفتوں میں جوکچھ ہوا اور آئندہ ہفتوں میں جو کچھ ہونے والا ہے ہم سب کو اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایگزیکٹ کا معاملہ ابھی بھی ختم نہیں ہوا۔اب آگے کیا ہونےوالاہے ؟ اس کے مستقبل کا انحصار اس کی قانونی جنگ کے نتیجے پر ہے۔میں اب بھی یہ سمجھتا ہوں کہ صحافی قوم کی رہنمائی کرسکتے ہیں لیکن وہ قوم کو گمراہ بھی کرسکتے ہیں ، انتخاب آپ کا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…