منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مارک سیگل کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کروانے کا حکم

datetime 25  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) عدالت نے مارک سیگل کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کروانے کا حکم دیدیا،بے نظیر بھٹو نے اپنے آخری ایام میں امریکی شہری مارک سیگل کو ای میل اور خطوط کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ انھیں پرویز مشرف سے جان کا خطرہ ہے پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے وزارت داخلہ اور راولپنڈی کی انتظامیہ کو امریکی شہری مارک سیگل کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے کے انتظامات مکمل کیے جائیں۔ راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے یہ حکم استغاثہ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر دیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس مقدمے کے اہم گواہ مارک سیگل سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پاکستان نہیں آ رہے اس لیے ان کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کر لیا جائے۔ بےنظیر قتل مقدمے میں مارک سیگل طلب انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ایوب مارتھ نے بے نظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں کی۔ راولپنڈی کی انتظامیہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس ضمن میں انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ جس کے مطابق امریکی شہری کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے کمشنر آفس میں انتظامات کیے گئے ہیں اور اس مقدمے کی آنندہ سماعت کمشنر آفس میں ہو سکتی ہے۔ عدالت نے وزارت داخلہ کو حکم دیا ہے کہ وہ اس ضمن میں پاکستان میں امریکی سفارت خانے سے رابطہ کرے اور سفارت خانے کا ایک اہلکار اس وقت کمرہ عدالت میں موجود ہو، جس وقت مارک سیگل کا بیان ریکارڈ کیا جا رہا ہو۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ وہ اس بارے میں امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے کے ساتھ بھی رابطہ کرے اور ا±سے اس ضمن میں ممکنہ اقدامات کرنے کے ہدایت کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…