منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی پر لاہور میں کشیدگی

datetime 25  مئی‬‮  2015 |

لاہور (نیوز ڈیسک)پولیس نے گلشن راوی سے ایک شخص کو مبینہ طور پر قرآن پاک کے اوراق نذرِآتش کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ہمایوں فیصل مسیح نامی اس شخص کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295۔بی (جو قرآن پاک کی بے حرمتی وغیرہ سے متعلق ہے) کے تحت سید ذیشان کی جانب سے ایک مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔ملزم سنڈا کے علاقے دھوپ سرائے کا رہائشی ہے اور اس پر الزام ہے کہ اس نے مقدس اوراق سے بھرے ایک بکس کو نذرآتش کیا تھا۔اس بات کے پھیلتے ہی لوگوں کی بڑی تعداد راوی روڈ پولیس اسٹیشن کے باہر اکھٹی ہونے شروع ہوگئی، جو مطالبہ کررہے تھے کہ ملزم کو ان کے حوالے کردیا جائے۔پولیس نے اس ہجوم کو منتشر کردیا، جو بعد میں ملزم کے گھر کے باہر اکھٹا ہوگیا، جہاں اس نے ایک گرجا گھر کو نذرآتش کرنے کی کوشش کی۔ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف اور دیگر پولیس اہلکاروں نے جب ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی تو ان میں سے کچھ شرپسندوں نے ان پر حملہ کرکے انہیں زخمی کردیا۔ایک پولیس اہلکار نے ڈان کو بتایا کہ مشتعل ہجوم نے ایک گرجا گھر کو نذرآتش کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے صورتحال پر قابو پالیا۔پولیس نے ان حملہ آوروں کے خلاف بھی مقدمہ درج کرلیا ہیاور ان میں سے کچھ کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس کو ایک ہنگامی فون کال موصول ہوئی کہ ایک شخص قرآن پاک کے اوراق جلارہا تھا، چنانچہ پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور ہمایوں کو اپنی حراست میں لے لیا اور مقدس اوراق پر مشتمل بکس کو اپنی تحویل میں لے لیا، جس میں سے کچھ جزوی طور پر جل گئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ یہ بکس گلشن راوی کے ایک پول پر نصب تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…