منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عام انتخابات کب ہونگے ،پرویز رشید نے اعلان کردیا

datetime 24  مئی‬‮  2015 |

،سری لنکن ڈاکٹروں نے جو ہمارے ساتھ کیا یہ وہی تعلیم ہے حضور نے جس کی تلقین کی تھی ،دنیا میں کسی کو دکھ اور پریشان میں دیکھو اسکی مدد کو پہنچو ،یہ تو قرآن پاک کی تعلیم ہے ،ہمیں اپنے مذہب ،قرآن کی تعلیم اورحضور کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا ہے ، یہ راستہ کسی کی زندگی لینے نہیں بلکہ زندگیاں دینے والا ہے ،ہم سب ایک دوسرے کے بہن اور بھائی ہیں ،ایک دوسرے کے دکھ اور درد میں شریک ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جہاں مساجد دارالاایمان ہوں ،محبت امن بھائی چارے دوستی، پیار کا پیغام دینے والی ہوں ،وہ علماءحق جو آج بھی پاکستان کے مسلمانوں اورعالم اسلام کو اسی پیغام سے روشناس کراتے ہیں جو ناصرف ہمارے دلوں کو منور کرتا ہے بلکہ ہمیں مثبت راہنمائی بھی دیتے ہیں، میں انکا پیروکار ہوں ۔ قبل ازیں خطبہ استقبالیہ پیش کر تے ہوئے الحاج حافظ نسیم احمد خلیل نے کہا کہ الخلیل قرآن کمپلیکس میں60طلباءکی دستار بندی ،حفظ قرآن کی اسناد دی جارہی ہیں ،آج ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم نے قرآن پاک سکھیں گے ،تلاوت کو معمول بنائیں اور اس پر مکمل عمل کریں گے۔تقریب سے خطاب کر تے ہوئے مسلم لیگ ن کے راہنما پیرزادہ راحت مسعود قدوسی نے کہا کہ مذہبی درسگاہوں کے ساتھ تعلق میرے لیے باعث فخر ہے ،قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو سیدھی ہے ،اس مدرسے کی بنیاد 1948میں خلیل احمد مرحوم نے رکھی ،ایک درخت کے نیچے سے اس مدرسے کا آغاز ہوا، تعلیمی ادارے عمارت کا نام نہیں ،استاد اور شاگرد کے تعلق کا نام ہوا کرتے ہیں ،عمارت بڑی ہو استاد اور شاگرد کا رشتہ کمزور ہو تو وہ تعلیمی ادارہ کمزور ہوا کرتاہے ،ہمارے بچوں نے بھی یہاں سے قرآن حفظ کیا ہے ،اس مدرسے میں استاد اور شاگرد کا رشتہ بہت مضبوط ہے ،اب تک لاکھوں بچوں قرآن حفظ کر چکے ہیں ۔اس موقع پرایم ایس ایف پنجاب کے صدر مقبول احمد خان ،ڈائریکٹرنیشنل کالج آف آرٹ راولپنڈی ڈاکٹرندیم عمر تارڑ ،ڈی ایس پی حافظ حامد خلیل سمیت حفاظ کرام کے والدین اور معززین علاقہ کی بڑی تعداد موجود تھی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…