اسلام آباد (نیوزڈیسک) پیپلز پارٹی کے رہنماءو سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ ایک نجی ٹی وی چینل ”بول“ کو اپنے دور حکومت میں سیکیورٹی کلیئرنس نہیں دی تھی اگر ثابت ہو جائے تو میں برابر کا مجرم ہوں گا، جعلی ڈگریوں کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاہم دونوں فریقوں کو اپنی صفائی دینے کا برابر کا موقع ملنا چاہیے۔ وہ بدھ کو پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوںنے کہا کہ جعلی ڈگریوں اور ایگزیکٹ کمپنی کے حوالے سے کمیٹی کا اجلاس بلایا ہوا ہے اس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بول میں کام کرنے والے میڈیا ورکروں کو ہراساں نہ کیا جائے، ایگزیکٹ کمپنی پر جعلی ڈگریوں کا الزام ہے، ان کی تحقیقات جاری ہیں، اگر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو پھر انہیں سزا دی جائے اور ان کے خلاف سخت سے سخت ایکشن ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات یکطرفہ نہیں ہونی چاہئیں، دیگر فریق کو اپنی صفائی کا موقع ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بول کو عبوری حکومت نے سیکیورٹی کلیئرنس دی تھی، ہم نے نہیں دی تھی۔(ا
بول کو سیکیورٹی کلیئرنس , رحمان ملک صفائیاں پیش کرنے لگے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ایران نے جنگ کا نیا مرحلہ شروع کردیا
-
امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی تھریٹ رپورٹ میں پاکستان، بھارت اور افغانستان کا خصوصی ذکر
-
ترک خواتین نے مسجد فاتح میں دوپٹے مردوں پر پھینک دیئے،ویڈیووائرل
-
عید الفطر کیلیے گیس کی فراہمی کا شیڈول جاری
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کی بڑی مشکل آسان ہوگئی
-
خلیجی ممالک پر حملے، شہزادہ فیصل نے بڑا اعلان کر دیا
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کا نوٹیفکیشن جاری
-
امریکی ڈائریکٹر قومی انٹیلی جنس کا پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق بیان مسترد
-
حکومت نے بجلی کے بلوں میں اضافی فکسڈ چارجز شامل کر دیئے
-
راولپنڈی،شادی شدہ خاتون سے زیادتی کرنے والے 4 افراد گرفتار
-
گیس تنصیبات پر حملہ، قطر کا بڑا سفارتی فیصلہ
-
لاہور، شہری نے فائرنگ کرکے بیوی، بیٹی اور بیٹے کو ہلاک کرکے خودکشی کرلی
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم رکھیں گے تو لوگ اپنا لائف اسٹائل تبدیل نہیں کریں گے، وزیر پیٹرولیم



















































