منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عدالتیں جرائم پیشہ افراد کو ضمانتیں دیتی رہیں تو ۔۔۔ شرجیل میمن کے عدلیہ پرالزامات

datetime 20  مئی‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک) وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ ذوالفقار مرزا کی جانب سے کھلے عام کی جانے والی دہشتگردی کا فوری نوٹس لیں۔ عدالتیں جرائم پیشہ افراد کو ضمانتیں دیتی رہیں تو پھر حکومتی رٹ کس طرح قائم ہوسکتی ہیں۔ ذوالفقار مرزا جس طرح تھانوں پر حملے اور کھلے عام اسلحہ کے زور پر تھانوں کو یرغمال بنا رہا ہے اور جس طرح وہ پولیس افسران کو یہ دھمکیاں دے رہا ہے کہ وہ کفن سا تھ لے کر آئیں۔یہ سب دہشتگردی کا زمرے میں آتا ہے۔ پمرا کو ذوالفقار مرزا کی جانب سے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور بالخصوص خواتین ارکان اسمبلی کے لئے استعمال کی جانے والی غیر اخلاقی اور بدتمیزی بھر زبان کے استعمال کی براہ راست کوریج کے حولے سے خطوط کے باوجود اب تک اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا جارہا ہے۔ہم امن و امان کے تمام اداروں اور عدلیہ کے اعلیٰ ججز سے استدعا کرتے ہیں کہ وہ ذوالفقار مرزا کی جانب سے کی جانے والی غنڈہ گردی کا نوٹس لیں۔ حکومت اپنی رٹ قائم کرنا چاہتی ہے لیکن اگر اس طرح کی دہشتگردی اور غنڈہ گردی میں ملوث افراد کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیا گیا تو پھر حکومت کیا کرسکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزراءاور پیپلز پارٹی کے ارکان سندھ اسمبلی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا آج جو کچھ کررہا ہے وہ کھلے عام دہشتگردی اور غنڈہ گردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جس طرح پریس کانفرنسز اور مختلف چینلز پر نازیبا، غیر اخلاقی اور غیر مہذب گفتگو اپنے محسنوں اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف بے ہودہ زبان استعمال کررہا ہے اور خواتین ارکان اسمبلی کے خلاف جو گفتگو کررہا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جرم قابل معافی اور قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی رٹ کو قائم رکھنے کے لئے ان کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کرارہی ہے تو دوسری جانب انہیں ہماری معزز عدلیہ تمام تر شواہد جو میڈیا کے ذریعے آج پورا ملک دیکھ رہا ہے ہونے کے باوجود ان کو ضمانتین دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھانوں میں جاکر حملے کرنا، مسلح افراد کے ساتھ کھلے عام اسلحہ کے زور پر کاروبار بند کرانا اور پولیس اسٹیشن میں اپنے حامی مسلح افراد کو یہ احکامات دینا کہ پولیس والوں کو سیدھی گولی مار دو۔ ان تمام شواہد کے باوجود عدلیہ کی جانب سے انہیں ایف آئی آر کے اندراج پر کیسز میں ضمانت دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ ذوالفقار مرزا کی کھلے عام دہشتگردی اور پولیس افسران کے خلاف استعمال کی جانے والی زبان کا نوٹس لیں اور انہیں سزا دیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ذوالفقار مرزا کی جانب سے کھلے عام غنڈہ گردی کے باوجود قانون کی خاموشی کے بعد حکومت کیا کرسکتی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آج ذوالفقار مرزا کو توہین عدالت کا نوٹس خواتین ارکان اسمبلی اور پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کے خلاف غیر اخلاقی اور بے ہودہ زبان کے عدالت کی جانب سے منع کئے جانے کے باوجود استعمال کرنے پر دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں فریال تالپور کے وکیل نے سندھ ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن پر درخواست پر معزز عدلیہ نے انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز پولیس انہیں گرفتار کرنے نہیں بلکہ ان کی حفاظت کے لئے گئی تھی لیکن اپنے آپ کو سندھ کا شیر کہنے والا ذوالفقار مرزا 9 گھنٹے تک اپنی بیگم کی پیچھے خوف کے عالم میں چھپا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک بار پھر اپنی معزز عدلیہ کے چیف جسٹس صاحبان اور ججز صاحبان سے استدعا کرتے ہیں کہ ذوالفقار مرزا کی جانب سے حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے اور کھلے عام غنڈہ گردی اور دہشتگردی کا نوٹس لیں اور انہیں ضمانتین دینے سے گریز کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…