ہفتہ‬‮ ، 21 مارچ‬‮ 2026 

فلسطینیوں کے قتل عام میں کہیں آپ بھی حصہ دار تو نہیں ؟

datetime 17  مئی‬‮  2015 |

آپ کے بچوں کی مصنوعات تیارکرنے والی کمپنی جانسن اینڈ جانسن ایک یہودی کمپنی ہے آپ کے پیسوں کا استعمال فلسطینی بچوں کو شہید کرنے بھی کیا جارہا ہے کیا آپ نے اپنے بچے کو جانسن اینڈ جانسن کا پاوڈر لگاتے ہوئے یہ تصور کرنے کی کوشش کی ہے کہ غزہ کے دواخانے میں بمباری سے شدید زخمی بچوں کو لگانے کیلئے مرہم تک نہیں ہے اور یہ بچے ان زخموں کی تاب نہ لاکر بلک بلک کر دم توڑ رہے ہیں؟ کیا آپ نے اپنے بچوں کو میگی یا مک ڈونالڈ کا برگر کھلاتے ہوئے یہ سوچا ہے کہ فلسطین میں بچے بھوکے مررہے ہیں؟ کیونکہ اسرائیل نے کئی برسوں سے ان کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ کیا آپ کو پیپسی کوکاکولا کی بوتلوں میں فلسطینیوں کا خون نظر نہیں آتا؟ کیا آپ کو نوکیا یا موٹرولا کے فون میں مظلوم فلسطینی بچوں کی آہیں سنائی نہیں دیتیں ؟کیا آپ کو اپنے ٹیلی ویڑن یا کمپیوٹر پر درد سے تڑپتے، بلکتے اور ملبے سے نکلتے معصوم فلسطینی بچے نظر نہیں آتے اگر آتے ہیں تو پھر آپ ان اشیاء کو کیوں استعمال کرتے ہیں۔ ذرا غور کیجئے ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی کے لحاظ سے اگر ایک کروڑ بچے بھی روزانہ میگی کھاتے ہیں تو 5 کروڑ روپئے یومیہ ہوں گے اور ماہانہ یہ رقم 1.5 ارب ہوگی۔ اگر ہم اس کا بائیکاٹ کریں گے تو کمپنی کو نقصان ہوگا اور کمپنی کو احسا س ہوگا کہ اسرائیل کی مدد کرنے سے اس کو یہ نقصان ہورہا ہے تو کمپنی اسرائیل کی مدد کرنے پر غور کرے گی اور اگر ا س نے اسرائیل کی مدد کرنا بند کردیا تو یہ آپ کی بہت بڑی کامیابی اور فلسطینیوں کی بہت بڑی مدد ہوگی۔لندن میں TESCO کے نام سے سوپر مارکٹ کی ایک چین چلائی جاتی ہے۔ مسلمانوں نے وہاں اس کے اسٹورس سے سامان خریدنا بند کردیا ہے، کیونکہ اس اسٹور میں اسرائیلی مصنوعات فروخت کی جارہی تھیں۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ اسٹور نے اسرائیلی اشیاء خریدنا بند کردیا۔ اگرچہ ابھی مسلم ممالک میں اسرائیلی اشیاء کے بائیکاٹ کی ہم نے شدت اختیار نہیں کی ہے لیکن یورپ میں یہ مہم تیزی سے پھیل رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسرائیلی انٹلی جنس نے اس کی اطلاع دینی شروع کردی ہے۔ یوروپی ممالک میں انسانی حقوق کے علمبردار غیر مسلم ارکان پلے کارڈ تھامے ان اسٹورس کے باہر کھڑے ہورہے ہیں جہاں اسرائیلی اشیاء فروخت کی جارہی ہیں اور ان پلے کارڈس پر اسرائیلی اشیاء کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل لکھی ہوتی ہے جہاں تک مسلم ممالک کاسوال ہے اردن نے حال ہی میں اسرائیل کی 220 کمپنیوں کی اشیاء کا بائیکاٹ کرنا شروع کیاہے، لیکن سماجی تنظیموں نے نشاندہی کی کہ اس بائیکاٹ کے بعد اسرائیلی اشیاء پر ’’میڈان فلسطین‘‘ کا لیبل لگا کر ان کو اردن کے بازاروں میں دھوکے سے فروخت کیاجارہاہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اردن کے بعض تاجر اسرائیل سے لائی گئی سبزیوں اور پھلوں پر فلسطین کا لیبل لگارہے ہیں۔ کیا ستم ظریفی ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں سے ان کی زمین چھین رہا ہے اور اس زمین پر اْگائی گئی اشیاء اور پھلوں کو فلسطین کے نام سے فروخت کر کے پیسہ حاصل کررہا ہے اور اس رقم کو فلسطینیوں کی نسل کشی پر خرچ کررہا ہے۔برطانیہ کے ایک رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ وارڈ نے باضابطہ طور پر اسرائیل کی اشیاء کا بائیکاٹ کرنے کیلئے ٹوئیٹر پر مہم شروع کی ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر لکھا کہ اسرائیل کو گھیرنے کا طریقہ یہ ہے کہ نسلی تعصب کے خلاف اسرائیلی اشیاء کا بائیکاٹ کیا جائے۔ برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے کوپنٹ گارڈن کے مقام پر اسرائیل میں میک اپ کا سامان تیار کرنیو الی ایک بڑی کمپنی ’’اہوا‘‘ کا بڑا اسٹور ہے۔ کئی دنوں سے مقامی افراد اس اسٹور کے باہر احتجاج کررہے ہیں۔ اس کمپنی کا اسرائیل کی بستی شہالوم میں کارخانہ ہے۔ ’’برطانیہ میں ایک تنظیم یہودیوں کو مکانات کرائے پر دینے کے خلاف بھی مہم چلارہی ہے۔
وہ کمپنیاں جو اسرائیل کی مدد کررہے ہیں
Procter&Gamble: یہ کمپنی اسرائیل کا حصہ ہے جو ڈائیپر تیارکرتی ہے۔ یہ کمپنی کا حصہ ہے۔ اوگول کا پلانٹ مغربی کنارہ کے انڈسٹریل پارک میں قائم ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…