منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

فلسطینیوں کے قتل عام میں کہیں آپ بھی حصہ دار تو نہیں ؟

datetime 17  مئی‬‮  2015 |

جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو اس کاخاتمہ یقینی ہوجاتا ہے لیکن یہ خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب قوم بیدار ہوجائے۔ آج غزہ کے معصوم ،نہتے ،بے گناہ اور بے سہارا فلسطینیوں پر اسرائیل کی بربریت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ خود کو مظلوم قوم بتاکر اسرائیل ان فلسطینیوں کی نسل کشی کررہا ہے اس پر ساری دنیا میں غم و غصہ پایا جارہا ہے لیکن یہ تمام ظلم ایک سوپر پاور کی سرپرستی میں ہونے کی وجہ سے بیشتر ممالک سوائے زبانی جمع خرچ کرنے کے کوئی عملی اقدامات نہیں کررہے ہیں۔ہزاروں فلسطینی شہید کئے جاچکے ہیں جن میں سینکڑوں بچے اور خواتین شامل ہیں۔انسانی حقوق ،جنگی قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہورہی ہے پھر بھی دنیا یہودیوں کو روکنے سے قاصر ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ مسلمانوں کا جو خون بہایا جارہا ہے اس پر عرب ممالک خاموشی اور بے حسی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اسرائیل کی کھلی دہشت گردی پر صرف بیان بازی سے کام لیا جارہا ہے۔ اگر چاہیں تو یہ ممالک اسرائیل کے خلاف سخت قدم بھی اٹھاسکتے ہیں لیکن افسوس کہ ان ممالک نے جن میں سے چند ایک کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی ہیں، خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
حکمرانوں کی خاموشی کے باوجود عوام خاموش نہیں ہیں وہ کسی نہ کسی طرح سے اپنے غم و غصہ کا اظہار کررہے ہیں جن کے دل میں ذرہ برابر بھی انسانیت ہے وہ اپنے اپنے طریقے سے اسرائیل کی اس بربریت کی مخالفت کررہے ہیں۔ خود امریکہ ،برطانیہ اور یورپ میں بھی لوگ اسرائیل کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ ہمارے ملک میں مختلف سماجی و مذہبی تنظیموں کی جانب سے اسرائیل کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے لیکن صرف احتجاج کرنے سے اسرائیل پر کوئی اثر ہونے والا نہیں ہے کیونکہ جس ملک کو اقوام متحدہ کی پرواہ نہیں ہے وہ ان احتجاجوں کو کہاں خاطر میں لائے گا۔ سوشیل میڈیا پر اسرائیلی بربریت کی تصاویر دیکھ کر شاید ہی کوئی آنکھ ایسی ہوگی جس میں آنسو نہ آئے ہوں گے۔معصوم بچوں کی تڑپ، خون میں نہائی ان کی نعشیں ،ملبے کے نیچے دبے انسانوں کی کراہیں اسکولوں، مساجد، مدارس پر بمباری یہ سب دنیا کی آنکھوں کے سامنے کیا جارہا ہے اور دنیا بے بس تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ہر انسان اس بربریت اور ظلم کا اسرائیل سے بدلہ لینا چاہتا ہے لیکن عام انسان اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ وہ اسرائیل کو جنگ کے میدان میں ذرہ برابر بھی نقصان پہنچائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…