منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سانحہ صفورا گوٹھ، بس میں گھسنے والے دہشت گردوں کا تعلق مختلف قومیتوں سے تھا

datetime 15  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سانحہ صفورا گوٹھ کے حوالے سے اعلی تفتیشی ذرائع کے مطابق تمام دہشت گردوں نے واردات سے پہلے اپنے حلیے تبدیل کئے تھے۔ مختلف تحقیقاتی ادارے شواہد کی بنا پر واردات کالعدم القاعدہ برصغیر اور کالعدم لشکر جھنگوی کی کارروائی قرار دیتے ہیں۔ بس میں سوار ہونے والے دہشت گردمختلف قومیتوں سے تعلق رکھتے تھے کیونکہ تینوں دہشت گردوں کے بولنے کے انداز مختلف تھے۔دہشت گردوںنے جو پمفلٹ بس میں پھینکا اس سے بھی واقعے کو سمجھنے میں مدد مل رہی ہے۔ ایک قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق16 اپریل کو شہید ملت روڈ پر جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کی وائس پرنسپل ،ا مریکن پی ایچ ڈی ڈاکٹر ڈیبرالوبو کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ اس واقعے میںڈاکٹر لوبوزخمی ہوئیں۔ ان کی گاڑی سے پمفلٹ برآمد ہواجس میں واقعے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ المعروف داعش نے قبول کی۔ دونوں واقعے میں ملنے والے پمفلٹ میں ISLAMIYYAH اورKEAMARI کی ہجے مماثلت رکھتی ہیں۔انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق دولت اسلامیہ کا کراچی میں کوئی قابل ذکر نیٹ ورک تو موجود نہیں لیکن کالعدم لشکر جھنگوی کے نظریات اس سے مطابقت رکھتے ہیں۔ دونوں ایک خاص مکتبہ فکر کے خلاف جذبات رکھتے ہیں۔ دولت اسلامیہ نے شام اور عراق میںدہشت کی نئی تاریخ رقم کی ہے جس کی وجہ سے کالعدم لشکر جھنگوی کے دہشت گرد اس کا نام استعمال کررہے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے دہشت گرد تنظیموں کے آپس میں رابطے منقطع ہوگئے ہیں اسی وجہ سے کالعدم لشکر جھنگوی کو مرکزی سطح پر ایک بڑی تنظیم کی ضرورت ہے جو اسے پیسا فراہم کرسکے۔دولت اسلامیہ اس وقت دنیا کی امیر ترین دہشت گرد تنظیم سمجھی جاتی ہے۔اس تمام صورتحال کا فائدہ دولت اسلامیہ بھی اٹھا رہی ہے اسی لئے ڈاکٹر لوبو پر حملے کی ذمہ داری تنظیم کے مرکزی ترجمان ابومحمد العدنانی نے اپنے ایک پیغام میں قبول کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…