منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

جب تک پولیس غیر سیاسی نہیں ہو گی دہشت گردی کا مسئلہ حل نہیں ہو گا,عمران خان

datetime 14  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کراچی سانحہ کی مزمت کر تے ہو ئے کہا کہ ‘ پر امن لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا‘ ‘ ایم کیو ایم کو دہشت گرد کہا جاتا ہے لیکن ضرورت پڑنے پر دوسری سیاسی جماعتیں انہی سے اتحاد کرنا چاہتی ہیں‘ خیبرپختونخواہ میں این ٹی ایس کے بعد پولیس بھرتی کی جاتی ہے جبکہ سندھ میں پیسے لے کر پولیس کو بھرتی کیا جاتا ہے،محبوب انور کو جھوٹا کہنے پر کوئی شرمندگی نہیں اور نہ ہی معافی مانگوں گا‘ ن لیگ کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے،۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جوڈیشل کمیشن پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں غم لی لہر ہے میں کراچی جا رہا ہوں۔ آج بھی آرمی پبلک سکول پشاور سانحہ کے بعد کی طرح کا ماحول ہے پوری قوم افسردہ ہے۔ ہم نے ملٹری کورٹس کی کڑوی گولیاں کھائیں لیکن پھر بھی مسئلہ حل نہیں ہو رہا جب تک پولیس غیر سیاسی نہیں ہو گی دہشت گردی کا مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

مزید پڑھئے:میں نے اسلام کیوں قبول کیا؟ یوسف یوحنا سے محمد یوسف تک۔۔۔‎

رینجرز زیادہ دیر تک اس مسئلہ کو نہیں سنبھال سکتی۔ خیبرپختونخواہ میں این ٹی ایس کے بعد پولیس بھرتی کی جاتی ہے جبکہ سندھ میں پیسے لے کر پولیس کو بھرتی کیا جاتا ہے۔ آج ن لیگ اور پیپلزپارٹی ایم کیو ایم کو دہشت گرد جماعت کہتی ہے ایسا پہلے بھی ہوتا رہا لیکن ضرورت پڑنے پر انہی کا سہارا تلاش کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن میں حقائق پر اوپن ٹرائیل ہو رہا ہے ن لیگ کو اس لئے تکلیف ہوئی کہ ن لیگ پہلے کہتی رہی کہ پاکستان تحریک انصاف کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہیں لیکن ہماری تیاری دیکھ کر ن لیگ کے غبارے سے ہوا نکل گئی انہوں نے کہا کہ محبوب انور کو جھوٹا کہنے میں‘ میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتا اور نہ ہی اس کی معافی مانگوں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…