منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاک چین راہداری کی تفصیلات قوم کے سامنے لائی جائیں ،شیریں مزاری

datetime 13  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کی سیکرٹری اطلاعات شیریں مزاری نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ چین کے لئے سٹریٹجیک منصوبے کی حثیت رکھتاہے کیونکہ پاکستان اس راہداری اور اس سے وابستہ منصوبوں کے پورے خطہ پر ممکنہ اثرات کے جائزہ کے بغیر ہی اس منصوبے کے ملکی معیشت پر (Macro Economic)اثرات کے مطالعے تک محدود رہتے ہوئے اس کی حقیقی اہمیت کا ادراک نہیں کیا جا رہا اور خاص طور پر جس پہلو کو نظر اندازکیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ ملک کے پسماندہ علاقوں میں بسنے والے عوام اس راہداری منصوبے سے کیسے مستفید ہوں گے اور کیسے بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کے عوام میں محرومی کے جذبات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔پاک چین اقتصادی راہداری (PCEC)منصوبے کے ذریعے جہاں پاکستان کو چین کے طویل المدتی سٹریٹجک شراکت کار کا مقام میسر آئے گا اور مغربی حصوں تک چین کی رسائی ممکن ہو سکے گی وہاں اسے شمال میں چین، افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک تک کا رستہ میسر آئے گا۔چنانچہ تحریک انصاف یہ سمجھتی ہے کہ اس منصوبے کو دو سطحوں پر جانچنے کی ضرورت ہے۔ اول۔ راہداری کاحقیقی نقشہ کیا ہے اور یہ پاکستان کے کن علاقوں سے ہو کر گزرے گی۔ دوم۔ اور اس منصوبے کے بڑے پیمانے پر کیا سٹریٹجک اثرات ہوں گے۔ اس کے ساتھ پاکستان میں اس راہداری سے متعلق چند اور پہلو بھی ہیں جن کی وضاحت ناگزیر ہے، اور ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ۔1۔ راہداری کے حقیقی نقشے کی وضاحت کرے اور اس سے جڑے ایک ایک راستے کی تعمیر و ترقی کی تمام تر تفصیلات بشمول مدت تکمیل قوم کے سامنے رکھے۔ 2۔ اس راہداری سے وابستہ منصوبوں کی تفصیلات اور ان کی صوبہ وار تقسیم سے آگاہ کرے۔ 3۔ ان منصوبوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری، اس کے ذرائع، اس کی نوعیت اورشرائط سمیت دیگر تفصیلات بتائے۔ تحریک انصاف یہ سمجھتی ہے کہ اس منصوبے کی نگرانی کیلئے کل جماعتی کمیٹی جس میں تمام صوبوں کو نمائندگی دی گئی ہے کے قیام سے منصوبے کے حوالے سے شکوک و شبہات کم کرنے میں مدد ملے گی اور منصوبے کی سبک روی اور شفاف انداز میں تکمیل کے اس کے آغاز سے اختتام تک فریقوں کو مناسب کردار ملے گا۔ اس کمیٹی کے قیام سے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو صحیح معنوں میں قومی تعارف میسر آئے گا اور اسے محض کسی ایک سیاسی جماعت کے منصوبے کی بجائے مجموعی نظر سے دیکھنا ممکن ہو سکے گا کیونکہ حقیقتاً اس منصوبے سے پوری قوم کا مفاد وابستہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…