لاہور( نیوزڈیسک) لاہور کے حلقہ این اے 125اور پی پی 155 میں دوبارہ انتخاب کی صورت میں پی ٹی آئی کے عام انتخابات میں نامزد امیدواروںکی جگہ نئے امیدواروں کے آنے کی بازگشت سنائی دینے لگی ،قومی اسمبلی کے حلقہ سے حامد خان ایڈووکیٹ کی جگہ لاہور کے صدر عبد العلیم خان میدان میں اترنے کے خواہشمند ہیں جبکہ پی پی 155سے پنجاب کے صدر اعجاز چوہدری کا نام لیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکشن ٹربیونل کے این اے 125اور پی پی 155کے حوالے سے فیصلہ آنے کے بعد پی ٹی آئی میں غیر رسمی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔دوسری طرف انتخاب کی صورت میں دونوں حلقوں سے نئے امیدواروں کے آنے کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125سے حامد خان ایڈووکیٹ کی جگہ عبد العلیم خان انتخاب لڑنے کے خواہشمند ہیں جبکہ ذیلی نشست پی پی 155سے عام انتخاب میں مقابلہ کرنے والے حافظ فرحت عباس کی جگہ پنجاب کے صدر اعجاز چوہدری کا نام لیا جارہا ہے۔ذرائع کے مطابق دونوں نشستوں پر امیدوار وں کے ناموں پر پارٹی کی سطح پر باضابطہ کوئی مشاورت نہیں ہوئی اور حتمی فیصلہ پارٹی چیئرمین نے مرکزی رہنما?ں سے مشاورت کے بعد ہی کرنا ہے۔واضح رہے کہ الیکشن ٹربیونل نے پیر کے روز اپنے فیصلے میں این اے 125سے خواجہ سعد رفیق اور پی پی 155سے میاں نصیر کی کامیابی کو کالعدم قرار
این اے 125‘ پی پی 155 ،کون کون تحریک انصاف کاامیدوارہے،جانیئے تفصیلات اس رپورٹ میں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)
-
ہونڈا CD 70 خریدنے والوں کے لیے اہم خبر
-
حج 2027 پیکیجز، پہلی قسط اور اخراجات کی تفصیلات جاری
-
متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کو ویزے جاری کرنا شروع کردیے
-
حکومت نے سولر بجلی سے متعلق نئی پالیسی پر غور شروع کردیا
-
اوم پوری کی اہلیہ نے شوہر کے ملازمہ سے تعلقات کا انکشاف کردیا
-
پی ٹی آئی رہنما کے قتل میں بڑی پیشرفت، قتل کے ماسٹر مائنڈ کا نام اور وجہ سامنے آگئی
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
پوتے نے بیگ میں توپ کے گولے رکھ دئیے، دادی ایئرپورٹ پر پکڑی گئیں
-
سعودی عرب جانے والے پاکستانیوں کے لیے بڑا اعلان
-
سینکڑوں عمرہ زائرین رُل گئے
-
بھارت کے معروف اداکار چل بسے
-
غلط ای چالان منسوخ کرانے کا آن لائن طریقہ پنجاب حکومت نے بتا دیا
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کردی گئی



















































