منگل‬‮ ، 07 اپریل‬‮ 2026 

الطاف حسین کی پاک افواج بارے ہرزہ سرائی کا معاملہ سفارتی سطح پر برطانیہ کے سامنے اٹھایا جائے ،پی ٹی آئی کی پنجاب اسمبلی میں قرارداد

datetime 4  مئی‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)پاکستان تحریک انصاف نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے بیان کےخلاف پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع کراتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت برطانیہ سے سفارتی سطح پر الطاف حسین کی افواج پاکستان کے بارے میں ہرزہ سرائی کا معاملہ اٹھائے۔ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر سبطین خان ، سعدیہ سہیل رانا ،ڈاکٹر نوشین حامد اور دیگر کے ہمراہ پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں قرارداد جمع کرائی۔ جسکے متن میں کہا گیا ہے کہ برطانوی شہری الطاف حسین کی پاک فوج کے خلاف لغو اور تعصب پرمبنی بیان بازی قابل مذمت ہے۔ وفاقی حکومت سے مطالبہ ہے کہ الطاف حسین کی افواج پاکستان کے بارے میں کی جانے والی ہرزہ سرائی کا معاملہ برطانیہ سے سفارتی سطح پر اٹھایا جائے۔ افواج پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف جنگ اور کراچی میں امن کی بحالی کے لئے کی جانے والی کاوشوں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں محمود الرشید نے کہا کہ ہماری کوشش ہو گی کہ اسمبلی کے آئندہ سیشن میں قرارداد پیش ہو اور اسے متفقہ طور پر منظور کیا جائے۔ ریاستی اداروں کی تضحیک اور انکے خلاف بے بنیاد الزامات الطاف حسین کا معمول ہے اور جب عوام کا رد عمل سامنے آتا ہے تو وہ الفاظ واپس یا معافی مانگ لیتے ہیں لیکن اس بارے انہوں نے تمام حدوں کو پار کر دیا ہے۔ الطاف حسین پاکستانی شہری نہیں انکی طرف سے فوج اور قومی سلامتی کے ضامن ادارووں پر حملے کسی طرح قابل برداشت نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم پاک فوج کی دہشتگردی کے خلاف جنگ اور کراچی میں قیام امن کے لئے کاوشوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اس سوال کہ اگر (ن) لیگ کی طرف سے اسمبلی میں قرارداد کی حمایت نہ کی گئی کا جواب دیتے ہوئے محمود الرشید نے کہا کہ اگر (ن) لیگ ایسا نہیں کرے گی تو ایکسپو ز ہو جائے گی ،کوئی (ن) کی قیادت کے خلاف بیان بازی کرے تو وہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہیں اور اب قومی سلامتی کے ضامن ادارے پر حملہ کیا گیا ہے معلوم ہو جائے گا کس کا کردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے بھی انتہائی کمزور رد عمل سامنے آیا ہے حالانکہ انہیں اسکی جاندار اور جارحانہ انداز میں مذمت کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم قرارداد کی متفقہ منظوری کے معاملے پر تمام جماعتوں سے رابطے میں ہےں ، یہ کسی سیاستدان یا سیاست کی بات نہیں بلکہ ملکی وقار کا معاملہ ہے۔انہوں نے اس سوال کہ کسی شخص کو بیرون ملک بیٹھ کر سیاسی جماعت کی قیادت نہیں کرنی چاہیے کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اب ایم کیو ایم کی صفوں میں بھی یہ سوالات اٹھ رہے ہیں اور اس میں بھی رائے بن رہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں ایم کیو ایم مین سٹریم پارٹی بنے لیکن اسے بھتہ خوروں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کو خود سے الگ کرنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…