کراچی (نیوزڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری نے پریس کی آزادی کے دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ اطلاعات تک رسائی کے قانون کو فوری طور پر منظور کیا جائے۔ اس قانون کو سینیٹ کی اطلاعات کی کمیٹی پہلے ہی منظور کرچکی ہے۔ پارٹی یہ مطالبہ بھی کرتی ہے کہ پریس کے ضابطہ اخلاق کو فوری طور پر حتمی شکل دی جائے کیونکہ یہ ضابطہ اخلاق اطلاعات تک رسائی اور شہریوں کے حقوق کے درمیان توازن پیدا کرنا ہے۔ اطلاعات تک رسائی کا قانون سینیٹ کمیٹی برائے اطلاعات نے ایک سال قبل منظور کر لیا تھا اور حکومت نے وعدہ کرنے کے باوجود ابھی تک یہ قانون قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جس سے حکومت کے ارادوں کے متعلق سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ میڈیا کے لوگوں کے خلاف سخت قسم کے جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ میڈیاسے متعلقہ افراد کے تحفظ کے لئے اداراجاتی طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ میڈیا کے لوگوں کے خلاف جرم کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت ، شفافیت اور احتساب کے لئے میڈیا کی آزادی بنیادی ستون ہے جسے کمزور کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے کیونکہ اس وجہ سے میڈیا کے لوگوں کے خلاف جرائم سرزد ہوتے ہیں۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
محبت تا ابد
-
سوزوکی نے صارفین کیلئے نئی اسکیم لانچ کر دی
-
کینسر کا خطرہ کن بلڈ گروپ والوں کو زیادہ ہوتا ہے؟ ماہرین کا تشویشناک انکشاف سامنے آگیا
-
تاریخی کمی کے بعد سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ
-
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کے فیصلے پر آئی سی سی کا ردعم...
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کیلئے بڑی خبر
-
سونے کی قیمت میں ریکارڈکمی، شہریوں نے زیورات بیچنا شروع کردیے،دبئی گولڈ سوک میں لمبی قطاریں
-
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو تبدیل کرنے کا فیصلہ
-
ہونڈا سی جی 125 خریدنے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری آگئی
-
چینی بلاگر نے سم کارڈز میں سے 16 تولے سونا نکال لیا
-
محکمہ موسمیات نے بارش اور برفباری سے متعلق اہم پیشگوئی کر دی
-
ہونڈا کمپنی نے اپنی نئی موٹر سائیکل متعارف کرا دی
-
پی آئی اے کے مسافروں کیلئے خوشخبری ، کرایوں میں بڑی کمی کا اعلان
-
معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کو قتل کردیا گیا















































