منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

محنت کشوں کاعالمی دن،ریلیاں ہی ریلیاں ،مزدورلاعلم

datetime 1  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)دنیا کے مختلف ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی جمعہ کو محنت کشوں کا دن منایا گیا جس کا مقصد مزدور طبقے کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کی طرف توجہ مبذول کروانا ہے۔اس دن کی مناسبت سے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں مزدور یونینوں کی طرف سے ریلیوں کا اہتمام کیا گیا جن میں ایک بار پھر ایسے مطالبات دہرائے گئے کہ محنت کش طبقے کو جائز حقوق دے کر ان کے معیار زندگی کو بہتر کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔یوم مزدور پر صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف نے اپنے الگ الگ پیغامات میں کہا کہ حکومت مزدوروں کی عزت و وقار پر یقین رکھتی ہے۔صدر کا کہنا تھا کہ حکومت نے محنت کش طبقے کو بااختیار بنانے، یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کی ملازمت کو مستقل کرنے سمیت مختلف عملی اقدامات کیے ہیں۔وزیراعظم نے آجروں اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ ملک کی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔حالیہ برسوں میں ایسے کئی اعلانات اور اقدامات تو دیکھنے میں آئے ہیں جن میں محنت کش طبقے کے لیے کم سے کم ماہانہ اجرت میں اضافہ اور دیگر سماجی سہولتیں فراہم کرنے کا کہا جاتا رہا ہے لیکن حقیقت اب بھی کچھ اور منظر پیش کرتی ہے۔ہمیشہ کی طرح یکم مئی کو ملک بھر میں عام تعطیل تھی لیکن محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالنے والے اس روز بھی محنت کرتے دکھائی دیے اوران کو اپنے حقوق کے بارے میں بھی علم نہیں تھابلکہ ان کویہ بات بھی معلوم نہیں تھی کہ آج محنت کشوں کاعالمی دن ہے جبکہ اسلام آباد میں یوم مزدور پر نکالی گئی ایک ریلی میں شریک مزدور رہنما راجہ عمر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جب تک محنت کشوں کو ان کا جائز مقام نہیں ملتا وہ لوگ اس بارے میں آواز بلند کرتے رہیں گے۔ایک اور کارکن عبدالرشید کا کہنا تھا کہ سرکار اور دیگر ادارے مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے اعلانات تو کرتے ہیں لیکن اس پر عملدرآمد میں سنجیدگی دیکھنے میں نہیں آتی۔ملک میں ایک بڑی تعداد ایسے مزدوروں کی ہے جو باقاعدہ طور پر کسی یونین یا تنظیم سے منسلک نہیں جن میں روزانہ کی بنیاد پر اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور گھریلو ملازمین شامل ہیں۔ حکومت کی طرف سے کیے جانے والے بہت سے اقدامات کا فائدہ اس طبقے تک نہیں پہنچ پاتا جس پر اکثر مزدور رہنما یہ کہتے ہیں کہ ایسے افراد کو اپنی اپنی سطح پر کوئی ضابطہ طے کرنا چاہیے تاکہ ان کے حقوق پامال نہ ہوسکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…