منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پنجاب میں دہشتگردوں کے800 ’سہولت کار‘گرفتار

datetime 1  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)قانون نافد کرنے والے اداروں نے صوبہ پنجاب سے اّٹھ سے سو زائد ایسے افراد کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور صوبے میں مختلف کالعدم تنظیموں کے ’سہولت کار‘ ہیں۔گرفتار کیے جانے والے افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صوبے میں ایسے تیرہ سو افراد کی نشاندہی کی ہے جو مختلف کالعدم تنظیموں کے ’سہولت کار‘ ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ا±ن میں سے زیادہ کا تعلق جنوبی پنجاب کے علاقوں سے ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے جو رپورٹ وزارت داخلہ کو بھجوائی گئی ہے اس میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ گرفتار ہونے والے افراد میں سے اکثریت کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان ، لشکر جھنگوی کے علاوہ سپاہ محمد سے ہے۔رپورٹ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صوبے سے کالعدم جماعتوں کی تیسری یا چوتھی سطح کی لیڈرشپ سے تعلق رکھنے والے چالیس افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔صوبائی وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ کے مطابق کالعدم تنظیموں کی نگرانی کے لیے نیٹ ورک کو بہتر بنانے کے لیے پنجاب پولیس کے ادارے سپیشل برانچ میں بھی بڑے پیمانے پر تنظیم نوکی جا رہی ہیں اور اس میں سویلین افراد کو بھی بھرتی کرنے سے متعلق کام ہو رہا ہے۔صوبائی وزیر داخلہ کے مطابق پنجاب اسمبلی کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے جانے والے سات قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر چودہ ہزار سے زائد مقدمات درج کرنے پندرہ ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کرکے ا±ن کے مقدمات عدالتوں میں بھجوا دیے ہیں۔ گرفتار ہونے والے افراد نے لاوڈ سپیکر ایکٹ، غیر قانونی اسحلہ اور وال چاکنگ سے متعلق قوانین کے خلاف ورزی کی تھی۔رپورٹ کے مطابق صوبہ بھر میں اب تک ساڑھے تیرہ ہزار سے زائد مدارس کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے جبکہ ان مدارس میں زیر تعلیم طلبا کے کوائف بھی اکھٹے کر لیے گئے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے تیار کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں ایسے افراد کی تعداد 3500 سے زائد ہے جنہیں انسداد دہشت گردی کے فورتھ شیڈول میں رکھا گیا ہے جن کی مانیٹرنگ ایک خصوصی چپس کے ذریعے کی جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…