بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

موسمی آفات سے بچاﺅ کےلئے متعلقہ اداروں کومل کرکام کرناہوگا،این ڈی ایم اے

datetime 30  اپریل‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک )نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارتی کے چیئرمین میجر جنرل اصغر نواز نے کہا ہے کہ آفات اور مختلف خطرات سے کامیابی سے نمٹنے کےلئے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط اور طاقتور شراکت داری ناگزیر ہے ،ورلڈ فوڈ پروگرام کے تعاون سے ڈیزاسٹر مینجمنٹ سمولیشن مشق امدادی کارکنوں کی استعداد بڑھانے سمیت کسی بھی آفت کے امکان سے نمٹنے کے لئے ایک طاقتور شراکت داری کی تعمیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے اشتراک سے تین روزہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سمولیشن مشق کے انعقاد کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر این ڈی ایم اے کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز ، فیڈرل فلڈ کمیشن، پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ، ریسکیو 1122 پنجاب، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اورریلویز کے نمائندوں نے شرکت کی۔جبکہ اس موقع پر پاکستان میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے قائمقام کنٹری ڈائریکٹر پیٹر سکاٹ بوڈن،یو این ریذیڈنٹ کوار ڈی نیٹر جیکوی بیڈ کاک نے بھی خطاب کیا۔ چیئرمین این ڈی ایم اے میجر جنرل اصغر نواز نے پیچیدہ اور ہنگامی مشق کے انعقاد میں مدد فراہم کرنے پر ورلڈ فوڈ پروگرام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان میں ایک اچھا ڈیزاسٹر مینجمنٹ نیٹ قائم کرنے میں مددملے گی۔ آفت کی صورتحال میں فوری او رلچکدار جواب کامیابی کی کنجی ہے۔ اس تربیت کا مقصد اس چیز کی مشق کرنا اور سمجھنا ہے کہ آفات کے دوران امدادی کارروائیوں کی منصوبہ بندی ، کام کرنے کی صلاحیت کو بڑھانے ، اچھا مربوط نیٹ ورک قائم کرنے اور تمام حصہ لینے والے اداروں کے درمیان ایک طاقتور تعاون بشمول تمام ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور دوسرے متعلقہ اداروں بشمول ریسکیو 1122، فوجی اور سول ڈیپارٹمنٹس کی شمولیت سے کسی بھی آفت کے امکان میں ایک زبردست جواب دینے کے لئے ایک طاقتور شراکت داری کی تعمیر ہے۔ پاکستان میںڈبلیو ایف پی کے قائمقام کنٹری ڈائریکٹر پیٹرسکاٹ بوڈن نے اپنے خطاب میں کسی بھی آفت سے نمٹنے کے لئے تیاری کے اقدام کی مشق میں مدد کرنے پر این ڈی ایم اے کی تعریف کرتے ہوئے مستقبل میں ایسی صورتحال کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے صوبائی اور ضلعی سطح پر جواب کی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ یو این ریذیڈنٹ کوار ڈی نیٹر جیکوی بیڈکاک نے اپنے خطاب میں پاکستان میں قدرتی آفات کے مقابلے کیلئے تیاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا میں موسمی تبدیلی کی وجہ سے آفات کے خطرے سے دو چار ممالک کی لسٹ میں ساتویں نمبر پر ہے۔ اس تیاری کے حصے کے طور پر بین الاقوامی برادری اور مقامی حکام کے درمیان ایک مضبوط شراکت داری کی اشد ضرورت ہے۔کسی بھی خراب صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہنگامی صورتحال میں امدادی کارروائیوں کی مشق کو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ آفات کے دوران نقصان پہنچنے کے اندیشے کو کم کیا جا سکے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…