اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

الطاف حسین کا نعرہ مطلوب مجرموں کوپکڑنے کا ردعمل ،سینیٹر سراج الحق

datetime 29  اپریل‬‮  2015 |

لاہور (نیوزڈیسک) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ الطاف حسین کی طرف سے کراچی کو الگ صوبہ بنانے اور سندھ ون اور سندھ ٹو کا نعرہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کی طرف سے نائن زیر پر رینجرز کے چھاپے اور مطلوب مجرموں کوپکڑنے کا ردعمل ہے۔ لسانی ، مسلکی اور قومیت کی بنیاد پر پاکستان کی جغرافیائی تقسیم سے نئے فتنے کھڑے ہوں گے۔ انتظامی بنیادوں پر آئینی طریق کار کے مطابق نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ اس پر مکمل قومی اتفاق رائے ہو۔ بات صرف سندھ کی تقسیم تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کئی یونٹ اٹھ کھڑے ہوں گے۔سرائیکی ، ہزارہ ۱، پشتون بیلٹ سمیت کئی علاقوں کے عوام پہلے سے الگ صوبوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہم ملک سے سٹیٹس کو کی سیاست کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ہم عوام کو ان کے بنیادی حقوق دلانے کی جدوجہد کر رہے ہیں عوام بھی اپنے پاﺅں پر کلہاڑی مارنے اور سانپوں کو دودھ پلاکر اڑدھے بنانے کے رویہ کو ترک کر کے ایسے لوگوں کا انتخاب کریں جو ان کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے لاہور میں جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی شعبہ جات کے ناظمین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نائب امراءراشد نسیم ، حافظ محمد ادریس اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ بھی موجود تھے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے میں کوئی قباحت نہیں مگر جب تک قومی اتفاق رائے نہ ہو ، اس مسئلے کو اٹھانا ملکی وحدت اور یکجہتی کے لیے خطرناک ہوگا۔ اگر پاکستان کو لسانی اور مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی بات چل نکلی تو پھر اس کو روکنا مشکل ہو جائے گا۔ اسلام و پاکستان دشمن چاہتے ہیں کہ 1971 ءکی طرح پاکستان میں ایک بار پھر تعصبات کو ہوا دے کر قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کر دیا جائے۔انہوں نے کہاکہ اس موقع پر قومی قیادت کو بیدار مغز ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ 68 سال تک ملک میں حکمرانی کرنے والوں نے اگر نظریہ پاکستان سے وفاداری کی ہوتی تو آج قوم مختلف گروہوں میں تقسیم نہ ہوتی۔ ملک کے آئین پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے آج عوام کے اندر ایک مایوسی اور ناامیدی پائی جاتی ہے۔ ملکی اقتدار پر قابض ٹولے نے تمام اداروں کو یرغمال بنارکھاہے۔ اسٹیبلشمنٹ ، عدلیہ ، فوج اور اعلیٰ ترین عہدوں پر انہی وڈیروں ، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے بیٹے بھتیجے اور بھانجے براجمان ہیں ، قوم نے جن لوگوں سے آزادی اور نجات کے لیے ایک تحریک چلائی تھی ،ابھی تک وہی ٹولہ مسلط ہے۔ انہو ں نے کہاکہ ملک میں ظالم اور مظلوم کی جنگ ہے۔ ظالم متحد اور مظلوم منتشر ہیں جس کی وجہ سے انہیں مسلسل مظالم کا سامنا ہے۔جب تک عوام اہل اور دیانتدار قیادت کاانتخاب نہیں کریں گے انہیں تعلیم ، صحت اور روزگار کے غصب شدہ حقوق حاصل نہیں ہوںگے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ دہشتگرد ی ملکی پیداوار نہیں اسے درآمد کیا گیا اور اسے کمائی کا ذریعہ بنایا گیاہے۔ دہشتگردی اور بدامنی مشرف کی ملک دشمن پالیسیوں کا خمیازہ ہے جوقوم کو بھگتنا پڑ رہاہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت دہشتگردی سے نمٹنے اور اسے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے دہشتگردی کی مارکیٹ مندے کاشکار ہوکر ختم ہورہی ہے۔ حکمران بھی اب اس پالیسی کو لپیٹ رہے ہیں۔ سراج الحق نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتیں اپنی مدت پوری کریں تاکہ آئندہ انتخابات میں عوام ان کے جھوٹے دعوﺅں اور نعروں کے جھانسے میں نہ آئیں اور انتخابات کے دن کو حکمرانوں کے لیے یوم حساب بنادیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…