اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اگر طبی ضرورت محسوس ہوئی تو بانی پی ٹی آئی عمران خان کو علاج کی غرض سے بیرون ملک بھی بھیجنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ نجی اسپتال منتقل کرنے کی سہولت صرف ایک قیدی کے لیے ہے یا دیگر قیدی بھی اس حق سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔سینیٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے سیاسی قیدیوں اور بیمار افراد کو طبی سہولیات فراہم نہ کیے جانے کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ کوٹ لکھپت جیل میں موجود ڈاکٹر یاسمین راشد کی عمر 78 برس ہے اور وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ ان کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر کی مریضہ ہیں، انہیں ریڑھ کی ہڈی کے مسائل کے ساتھ سانس لینے میں بھی دشواری کا سامنا ہے، جبکہ جیل میں بجلی کی طویل بندش کے باعث ان کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد ڈاکٹر اور استاد رہ چکی ہیں اور ایک بزرگ شہری ہونے کے ناطے انہیں بنیادی حقوق اور مناسب طبی سہولیات ملنی چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت انہیں دہشت گرد سمجھتی ہے تو بھی بطور قیدی ان کے قانونی اور انسانی حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔اپوزیشن لیڈر نے سینیٹر اعجاز چوہدری کا معاملہ بھی ایوان میں اٹھایا اور کہا کہ وہ بھی سابق پارلیمنٹیرین ہیں اور عارضہ قلب میں مبتلا ہونے کے باعث طبی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سیاسی رہنماؤں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے بنیادی حقوق محدود کیے جا سکتے ہیں؟راجہ ناصر عباس کے مطابق سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد سیاسی ماحول میں بہتری کی امید پیدا ہوئی تھی اور حکومت کو عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد کرنا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیاست کو جرم بنانے کے بجائے سیاسی قیدیوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کے کور کمانڈر ہاؤس پر حملے میں ملوث ہونے کا الزام بھی درست نہیں۔وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے مؤقف پر قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد اور سینیٹر اعجاز چوہدری سمیت تمام افراد قابل احترام ہیں، تاہم 9 مئی کے واقعات کو پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب سمجھا جاتا ہے اور ان مقدمات میں پی ٹی آئی کے متعدد افراد کو عدالتوں سے سزائیں بھی ہوچکی ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کور کمانڈر ہاؤس پر حملے کے وقت وہاں موجود تھیں۔
0ساتھ ہی انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پنجاب حکومت اور جیل حکام سے دوبارہ رابطہ کرکے ڈاکٹر یاسمین راشد کو درکار طبی سہولیات کی فراہمی کے معاملے پر بات کی جائے گی۔طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کو ماضی میں بھی اسپتال منتقل کرکے علاج کی سہولت فراہم کی گئی تھی اور آئندہ بھی ضرورت کے مطابق طبی سہولیات دی جائیں گی۔ ان کے مطابق حکومت عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے سنجیدہ ہے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ عدالت سے رجوع کرنے کا مقصد یہ وضاحت حاصل کرنا ہے کہ نجی اسپتال منتقل کرنے کی سہولت صرف ایک فرد تک محدود ہے یا اس کا اطلاق دیگر قیدیوں پر بھی ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی قیدی کے علاج کے لیے بیرون ملک طبی سہولت درکار ہوئی اور حکومت نے اس کی ضرورت محسوس کی تو اسے بیرون ملک بھی علاج کے لیے بھیجا جاسکتا ہے، جبکہ عدالتی حکم پر بہرحال عمل کیا جائے گا۔



















































