اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے بعد آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے،
جس کے نتیجے میں آئل ٹینکرز کی آمدورفت متاثر ہونے لگی ہے۔ خلیجی پانیوں میں موجود متعدد جہازوں کو ایرانی بحریہ کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت بند ہے۔ شپنگ ذرائع کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی جہاز کو اس گزرگاہ سے گزرنے کے لیے پیشگی اجازت حاصل کرنا ہوگی، بصورت دیگر سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ لبنان جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق حزب اللہ کی موجودگی کے باعث لبنان کو اس معاہدے میں شامل نہیں کیا گیا اور اس معاملے کو الگ طور پر دیکھا جائے گا۔
ادھر اسرائیل کی جانب سے لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ رپورٹس کے مطابق چند ہی منٹوں میں مختلف علاقوں میں سو سے زائد حملے کیے گئے، جبکہ شہر صور (ٹائر) کو خالی کرنے کی دھمکی کے بعد شدید فضائی بمباری کی گئی۔
اسرائیل نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ لبنان، امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے۔ دارالحکومت بیروت کے وسطی اور جنوبی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
لبنانی ریڈ کراس کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں اب تک 89 افراد جاں بحق جبکہ 700 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔



















































