بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

1971کی جنگ میں بھارت کا مکتی باہنی دہشت گردوں کے ذریعے گھناؤنا اور شرمناک کردار

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)سن 1965ء کی جنگ میں پاک فوج کے ہاتھوں عبرتناک شکست کے بعد بھی بھارت نے اپنی مکارانہ سازش کو جاری رکھا،بھارت نے ریاستی دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو تقسیم کرنے کی بہیمانہ سازش کی اور نوجوان بنگالیوں کی ذہن سازی کر کے انھیں مغربی پاکستان کے خلاف اُکسانا شروع کیا،پاکستان میں انتشار پھیلانے کے لیے بھارت نے مکتی باہنی دہشتگرد گروہ کو زیرِ تسلط کیا۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے خلاف مکتی باہنی دہشت گردوں کو بھارتی خفیہ ایجنسی ”را” کی مکمل سرپرستی حاصل تھی۔مکتی باہنی کے دہشتگردوں نے پاکستان آرمی اور محب وطن بنگالیوں کا اتحاد توڑنے اور پاکستان کو کمزور کرنے کی کوششیں شروع کیں۔

بھارتی ایجنسی ”را” کے مذموم منصوبے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مکتی باہنی دہشت گردوں نے ہزاروں محب وطن پاکستانیوں کو شہید کیا۔ مکتی باہنی دہشت گردوں میں شامل بڑی تعداد ہندوؤں کی تھی۔ہندو بنگالیوں نے بھارت کی مسلم دشمن سوچ کو پروان چڑھاتے ہوئے مشرقی پاکستان میں لاتعداد مسلمانوں کو شہید کیا۔مکتی باہنی کی تشکیل اور بھارتی حکومت کی جانب سے اس کے گوریلا کارندوں کو دی گئی فوجی و انٹیلی جنس مدد ایک معروف تاریخی حقیقت ہے۔ اس مقصد کے لیے بھارتی فوج کی ایسٹرن کمانڈ کولکتہ میں رمیشورناتھ کاؤ کی زیر نگرانی کنٹرول ہیڈ کوارٹرز قائم کیا گیا۔مکتی باہنی کے دہشتگردوں کی ٹریننگ کیلئے 6 مختلف ٹریننگ سینٹرز تشکیل دیے گئے اور ہر ٹریننگ سینٹر بھارتی فوج کے بریگیڈیئر کے زیر کمان تھا، ان تمام 6 کیمپوں میں تقریباً ایک لاکھ کے قریب مکتی باہنی کے دہشتگردوں کو تربیت فراہم کی گئی۔اس کے علاوہ 800 مکتی باہنی کے افسران کو باقاعدہ طور پر ”انڈین ملٹری اکیڈمی دہرہ دون” میں تربیت فراہم کی گئی۔ علاوہ ازیں، 600 مکتی باہنی کے دہشتگردوں کو مشرقی پاکستان کی مختلف بندرگاہوں پر حملے کا ٹاسک بھی دیا گیا۔بھارتی فوج کے حاضر سروس افسران سول کپڑوں میں مکتی باہنی دہشتگردوں کے ساتھ آپریشنز میں شریک اور ہدایات دیتے رہے۔ مکتی باہنی کے دہشتگرد حملوں میں مشرقی و مغربی پاکستان کے ہزاروں بے گناہ مرد، عورتیں اور بچے شہید ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…