ہفتہ‬‮ ، 06 دسمبر‬‮ 2025 

سینیٹ نے دوتہائی اکثریت سے 27 ویں آئینی ترمیم منظور کرلی

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک )سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی، جس کے ساتھ ہی ایوان بالا میں آئینی ترامیم کا ایک اہم مرحلہ مکمل ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک پیش کی۔ اس دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین نے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے جمع ہو کر احتجاج کیا، تاہم پی ٹی آئی کے رکن سیف اللہ ابڑو اس احتجاج میں شریک نہیں ہوئے اور اپنی نشست پر بیٹھے رہے۔تحریک پر ووٹنگ کے دوران سیف اللہ ابڑو اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر احمد خان نے آئینی ترمیم کی حمایت میں ووٹ دیا۔ بعد ازاں ایوان میں 59 شقوں پر مشتمل ترمیم کو مرحلہ وار منظوری دی گئی۔

مجموعی طور پر 64 ارکان سینیٹ نے ترامیم کے حق میں ووٹ دیا جبکہ کوئی رکن مخالفت میں سامنے نہیں آیا۔چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے ووٹنگ کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیمی بل سینیٹ سے باقاعدہ منظور کرلیا گیا ہے۔ ترمیم کے حق میں 64 ووٹ آئے جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں ڈالا گیا۔منظوری کے بعد سیف اللہ ابڑو اور احمد خان ایوان سے غیر حاضر ہوگئے۔ترمیم کے مطابق، صدرِ مملکت کو تاحیات اور گورنرز کو اپنی مدتِ ملازمت کے دوران کرمنل کارروائی سے استثنا حاصل ہوگا۔ کسی عدالت کو ان کے خلاف گرفتاری کا حکم جاری کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔ تاہم، صدرِ مملکت پر یہ استثنا اس وقت لاگو نہیں ہوگا جب وہ صدارتی مدت مکمل ہونے کے بعد کسی عوامی عہدے پر فائز ہوں۔

ترمیم میں مزید وضاحت کی گئی کہ وفاقی آئینی عدالت میں صوبوں سے برابر نمائندگی ہوگی، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے کم از کم ایک جج شامل ہوگا، تاہم اسلام آباد کے ججز کی تعداد صوبوں کے ججز سے زیادہ نہیں ہوسکے گی۔ترمیم کے تحت آئینی عدالت ازخود نوٹس صرف اس صورت میں لے سکے گی جب کوئی شہری اس کے لیے تحریری درخواست دے۔ مزید یہ کہ ہائی کورٹ کے ججوں کی منتقلی اب جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر ہوگی، اور اگر کوئی جج منتقلی سے انکار کرے تو اس کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا جا سکے گا، البتہ جج کو اپنے فیصلے کی وجوہات بیان کرنے کا پورا موقع دیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چیف آف ڈیفنس فورسز


یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…

فیلڈ مارشل کا نوٹی فکیشن

اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں 2008ء میں شادی کا ایک…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)

جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…