جمعرات‬‮ ، 25 جون‬‮ 2026 

غزہ کیلئے امداد لےجانے والی کشتیوں پر اسرائیل کے حملے، کئی افراد زیرحراست

datetime 2  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد ۰نیوز ڈیسک)اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی جانب امداد لے کر جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر کارروائی کرتے ہوئے اس کا گھیراؤ کر لیا۔ اطلاعات کے مطابق 20 اسرائیلی کشتیاں 40 سے زائد جہازوں پر مشتمل فلوٹیلا کے اردگرد تعینات ہو گئیں اور متعدد کشتیوں پر پانی کے توپ خانے استعمال کیے گئے۔یہ بیڑہ غزہ کے محصور اور بھوک کا شکار عوام کے لیے امدادی سامان لے جا رہا تھا۔ اس فلوٹیلا میں پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت مختلف ملکوں کے کارکنان شریک ہیں۔ منتظمین نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج ایک جہاز میں گھس آئی اور اس پر سوار تمام رضاکاروں کو حراست میں لے لیا۔اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق مسافروں کو ایک اسرائیلی بندرگاہ پر منتقل کیا جا رہا ہے جہاں سے انہیں جلد ہی ملک بدر کر دیا جائے گا۔ گرفتار ہونے والوں میں سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی حکام نے اس حوالے سے ویڈیو جاری کر کے دعویٰ کیا ہے کہ تمام افراد محفوظ ہیں۔

فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے کشتی ’دیر یاسین‘ سمیت دیگر جہازوں پر دھاوا بول کر ان کا مواصلاتی نظام بند کر دیا ہے، جس کے بعد براہِ راست نشریات اور رابطے ختم ہو گئے ہیں۔ کشتیوں میں سوار افراد کی موجودہ صورتحال غیر واضح ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیلی مزاحمت کے باوجود فلوٹیلا کی 30 کشتیاں اب بھی غزہ کی سمت بڑھ رہی ہیں اور وہ غزہ سے صرف 46 ناٹیکل میل (تقریباً 85 کلومیٹر) کی دوری پر ہیں۔انسانی حقوق کے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ ان کا مقصد صرف اور صرف غزہ کے عوام تک امدادی سامان پہنچانا ہے اور اسرائیلی دباؤ کے باوجود وہ اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فلوٹیلا کو ریڈیو پر وارننگ دی جا رہی ہے کہ وہ غزہ جانے کے بجائے اپنا رخ اشدود کی بندرگاہ کی طرف موڑیں تاکہ وہاں امداد اتار کر غزہ منتقل کی جا سکے۔فلوٹیلا کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے رکن تیاغو اویلا نے اپنے جہاز سے آڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں کہا گیا کہ: “ہم اپنے مشن کے ایک اہم موڑ پر ہیں اور اسرائیلی ناکہ بندی کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

“ترک خبر رساں ادارے کے مطابق ایک جہاز پر موجود کارکن زین العابدین اوزکان نے بتایا کہ رات بھر فلوٹیلا کے اوپر اسرائیلی ڈرون پروازیں کرتے رہے، جبکہ صبح کے وقت مرکزی کشتی ’الما‘ کے انٹرنیٹ اور جی پی ایس سسٹم پر سائبر حملہ کیا گیا جس سے رابطہ منقطع ہو گیا۔’الما‘ پر سوار ترک کارکن متیہان ساری کے مطابق یہ سب سے شدید دباؤ تھا جس کا انہوں نے سامنا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ: “ہمیں ڈرانے کی کوشش کی گئی لیکن ہم خوفزدہ نہیں ہوئے اور واضح کر دیا کہ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی جنگی کشتیاں ’الما‘ سے صرف پانچ سے دس میٹر کے فاصلے تک آ گئی تھیں۔دریں اثنا، انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فلوٹیلا میں شامل کارکنوں کی سلامتی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…