جمعرات‬‮ ، 03 ستمبر‬‮ 2026 

دریا کنارے10 طاقتور شخصیات کے ریزورٹ بچانے کیلئے پوری پوری بستیاں اجاڑ دی گئیں: مصدق ملک

datetime 30  اگست‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا ہے کہ دریاؤں کے کنارے ملک کے طاقتور اور امیر افراد نے غیر قانونی ہوٹل، ریزورٹس اور ہاؤسنگ سکیمیں بنا رکھی ہیں، ہم اعلان جنگ کر رہے ہیں، اب ہم رکیں گے نہیں، پانی کے راستے سے ان کو ہٹائیں گے۔کراچی میں ایک تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی مصدق ملک نے کہا کہ میرا دل دکھی ہو جاتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ چند رئیسوں نے دریاؤں کی زمین کو کاٹ کر غیر قانونی ہوٹل، ریزورٹس اور بستیاں بنا رکھی ہیں۔مصدق ملک نے کہا کہ یہ سکیمیں اور ہوٹل سیلاب کے دوران کچی بستیوں کے لیے تباہی کا باعث بنتے ہیں، یہ بربادی غریبوں کے خاندان کھا جاتی ہیں، حالیہ سیلاب کے دوران 800 لوگ شہید ہوگئے، اتنے تو جنگ میں بھی نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ میں ملک کے مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا 750 کلو میٹر گاڑی چلا کر گلگت بلتستان پہنچا، 20 سے 30 کلو میٹر پہاڑوں پر بھی ٹریکنگ کی، اس دوران دریاؤں کے کنارے کسی ایک غریب کا ہوٹل یا ریزورٹ نہیں تھا، جو طاقتور، سیٹھ اور امیر لوگ ہیں، یہیں کہیں رہتے ہیں سب انہی کے ریزروٹس اور ہوٹلز وہاں قائم ہیں۔وزیر موسمیاتی تبدیلی کا کہنا تھا کہ جب سیلاب آتا ہے تو وہ پروا نہیں کرتا کہ سیٹھ کون ہے، سیٹھ کا وہ بنگلہ یا اُن کی بنائی ہوئی ہاؤسنگ سوسائیٹیز، ریزروٹس اور ہوٹلز جب پہاڑوں سے آنے والے پانی کے سامنے آتے ہیں، تو پھر وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر نیچے کی جانب آباد لوگوں کے لیے میزائل بن جاتے ہیں۔انہوں نیکہا کہ بس اب، بہت ہوگیا، وزیر اعظم شہباز شریف بھی کہہ چکے ہیں، کوئی ریاست سے طاقت ور نہیں، رواں برس سب کو نظر آجائے گا اور غریب کو برباد کرنے والوں کے خلاف ریاست آڑے آئے گی۔

مصدق ملک نے کہا کہ یہ جنگ ہے، ہم اعلان جنگ کر رہے ہیں، اب ہم رکیں گے نہیں، پانی کے راستے سے ان کو ہٹائیں گے، ہمیں دریا کے ساتھ ساتھ قدرتی ریزروز بنانے ہوں گے، تاکہ پانی کو ان جگہوں پر محفوظ بنا کر پورا سال اس کا استعمال کر سکیں۔مصدق ملک کا کہنا تھا کہ جنگلات کی غیر قانونی طور پر کٹائی کر کے جو درخت وہاں رکھے جاتے ہیں، وہ سیلاب میں شامل ہو کر نیچے آنے والی آبادیوں کے لیے انتہائی خطرناک بن جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قدرت کا احترام کریں، سیلاب سے اگر کوئی چیز بچا سکتی ہے تو وہ درخت ہی ہیں، ہمیں چاہئے کہ درخت کاٹنے کے بجائے مزید لگائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…