جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

یوم تکبیر پر جاری بڑے بڑے سرکاری اشتہارات سے ڈاکٹر عبدالقدیرخان کی تصاویر غائب

datetime 28  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)یومِ تکبیر کے موقع پر جاری کردہ سرکاری اشتہارات میں پاکستان کے ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی عدم موجودگی پر عوامی سطح پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے 28 مئی کے موقع پر اخبارات میں جو اشتہارات شائع کیے، ان میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو سب سے نمایاں دکھایا گیا ہے۔ دیگر تصاویر میں ذوالفقار علی بھٹو، صدر آصف علی زرداری، آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور مسلح افواج کے اعلیٰ افسران شامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی تصویر بھی ان اشتہارات کا حصہ ہے۔

پنجاب حکومت کی طرف سے جاری کردہ یومِ تکبیر کے اشتہار میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، موجودہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو پیش کیا گیا، تاہم حیرت انگیز طور پر ایٹمی پروگرام کے بانی اور معمار کہلائے جانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی کوئی تصویر نہ وفاقی اور نہ ہی صوبائی حکومت کے کسی اشتہار میں شامل کی گئی۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا، اور انہیں “محسنِ پاکستان” کا لقب بھی دیا گیا تھا۔ ان کا نام ملک کے ایٹمی پروگرام کا سب سے اہم حوالہ سمجھا جاتا ہے۔

اس موقع پر پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی رکن حنا پرویز بٹ کی جانب سے یومِ تکبیر پر قوم کو مبارکباد پیش کرنے کی قرارداد بھی جمع کرائی گئی۔ قرارداد میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا کہ انہوں نے عالمی دباؤ اور امریکی پیشکشوں کو مسترد کرتے ہوئے چھ ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کیا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ 28 مئی کو پاکستان نے بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں چھ کامیاب ایٹمی تجربات کر کے اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی قوت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ قرارداد میں پاک فوج کی قربانیوں کو بھی سراہا گیا اور افواجِ پاکستان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔

تاہم سرکاری سطح پر جاری ان اشتہارات میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو نظرانداز کیے جانے پر سوشل میڈیا صارفین اور عوامی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…