جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

معاف کرنے اورمذاکرت کیلئے تیارہوں ،عمران خان

datetime 14  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی معاف کرنے اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں، موجودہ سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران ملک کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکمل رہائی کے لیے بھی درخواست زیر سماعت ہے، اور تمام آئینی راستے اپنائے جا رہے ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہونے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر ہفتے ملاقات کا عدالتی حکم موجود ہے، لیکن اس پر عمل نہیں ہو رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ قریب ہے، سیکیورٹی اور دیگر اہم معاملات پر بانی پی ٹی آئی سے مشاورت ضروری ہے، ملاقات سے روکنا بہت بڑی زیادتی ہے۔دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی پیرول پر رہائی کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ سماعت ہوئی۔ قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے سماعت کے دوران کہا کہ پیرول کی درخواست سزا معطلی کیس سے مختلف ہے اسے الگ طور پر دیکھا جائے گا۔

بانی پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت سے استدعا کی کہ پیرول پر رہائی کی درخواست کو سزا معطلی کیس کے ساتھ فکس کیا جائے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست کی قابلِ سماعت ہونے کا فیصلہ عدالت کو کرنا ہے، اسسٹنٹ رجسٹرار کا یہ دائرہ اختیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ ایک شخص کو انصاف نہیں مل رہا، جو کہ خطرناک رجحان ہے۔قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی کو ٹرائل کورٹ سے سزا ہو چکی ہے اور وہ سزا یافتہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو اعتراضات لگائے گئے ہیں ان پر عدالتی حکم جاری کیا جائے گا۔سماعت کے دوران وکیل نیازاللہ نیازی نے بتایا کہ توہین عدالت کی سات درخواستیں بھی زیر التوا ہیں، جبکہ 190 ملین پاؤنڈ سزا معطلی کی سماعت بھی تاحال مقرر نہیں ہوئی۔

لطیف کھوسہ نے عدالت سے زور دیا کہ پیرول کیس بھی انہی کے ساتھ فکس کیا جائے۔قائم مقام چیف جسٹس نے واضح کیا کہ پیرول پر رہائی ایک مختلف نوعیت کا معاملہ ہے اور اس پر الگ سے فیصلہ کیا جائے گا۔ عدالت نے اس موقع پر مشورہ دیا کہ حکومت کے زیر اختیار معاملے کو عدالت میں لانے کے بجائے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے۔واضح رہے کہ 190 ملین پاؤنڈز یا القادر ٹرسٹ کیس میں الزام لگایا گیا تھا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ نے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کی جانب سے حکومتِ پاکستان کو بھیجے گئے 50 ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے عوض بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے اربوں روپے اور سیکڑوں کنال مالیت کی اراضی حاصل کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…