جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

16ویں قومی اسمبلی کا پہلا پارلیمانی سال مکمل، 26ویں ترمیم سمیت 47قوانین منظور

datetime 27  فروری‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)144 دن پر مشتمل 16ویں قومی اسمبلی کا پہلا پارلیمانی سال مکمل ہوگیا، قومی اسمبلی کے13سیشنز کے دوران مجموعی طور پر 93 نشستیں منعقد ہوئیں، ایوان کی کاروائی247 گھنٹے 23 منٹ تک چلتی رہی، 26ویں آئین ترمیم سمیت 47 قوانین، 26 قرادادیں منظور کی گئیں۔اس دوران نواز شریف اور حمزہ شہباز کی سب سے کم حاضری رہی، صرف 5دن شریک ہوئے، وزیر اعظم شہباز شریف11، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی حاضری کی تناسب سب سے زیا دہ رہا، حکومت قانون سازی اور اپوزیشن احتجاج میں مصروف رہی، سیاسی مسائل عوامی مسائل پر حاوی رہے۔

پہلے پارلیمانی سال کے دوران انتخابات کے باوجود قومی اسمبلی کا ایوان نامکمل رہا، پارلیمنٹ سے منظور قانون سازی میں عوامی مفاد کا تاثر کم جبکہ سیاسی مفادات کے حصول کی کاوشیں دیکھنے میں زیادہ نظر آئیں۔قومی اسمبلی میں سیاسی انتشار رہا، اپوزیشن سراپا احتجاج رہی، حکومت نے پوری رات قانون سازی کا ریکارڈ قائم کر ڈالا، قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کے منظوری کے دوران اقلیت کو اکثریت میں بدلتے دیکھا گیا، پریکٹس اینڈ پروسیجر اور الیکشن ایکٹ میں ایک کے بعد ایک قانون سے سیاسی ماحول کو گرمائے رکھا۔ دستاویز کے مطابق پارلیمانی سال کے دوران قومی اسمبلی میں91بل پیش کیے گئے حکومت کی جانب سے 30 جبکہ اراکین اسمبلی کی جانب سے61قوانین ایوان میں متعارف کرائے گئے جبکہ قومی اسمبلی میں حکومت اور پرائیوٹ ممبر کی جانب سے پیش بلوں میں سے 47پر قانون سازی ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…