بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

جب تک جرم کو آرمی ایکٹ کے مطابق ثابت نہیں کریں گے، کیا وہ ملٹری ٹرائل میں آئے گا؟ جسٹس مندوخیل

datetime 28  جنوری‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران وزارت دفاع کے وکیل سے متعدد سوالات پوچھ لیے ہیں کہ آرمی ایکٹ میں انکوائری کون کرتا ہے؟ فرد جرم عائد کرنے کے بعد انکوائری کیسے کرتے ہیں؟ کیا دوران ٹرائل بھی چارج فریم ہوتا ہے؟ جب تک جرم کو آرمی ایکٹ کے مطابق ثابت نہیں کریں گے، کیا وہ ملٹری ٹرائل میں ہی آئے گا۔

منگل کو جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کی۔وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل میں آرمی ایکٹ اور پولیس کی ایف آئی آر میں چارج فریم کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کر دیا۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے وکیل خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ آرمی ایکٹ میں انکوائری کون کرتا ہے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ چارج کے بعد انکوائری کمانڈنٹ آفیسر کرتا ہے۔

جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ فرد جرم عائد کرنے کے بعد انکوائری کیسے کرتے ہیں؟ وکیل خواجہ حارث نے بتایا کہ الزام لگا دیتے ہیں، چارج لفظ اسی کے لیے استعمال ہوتا ہے، چارج کی بنیاد پر تفتیش کی جاتی ہے۔دوران سماعت جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا دوران ٹرائل بھی چارج فریم ہوتا ہے؟ جس پر وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ چارج الگ ہوتا ہے اور دوران ٹرائل چارج فریم ہوتا ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے اس موقع پر سوال اٹھایا کہ کیا فوجی عدالتوں میں ججز یونیفارم میں ہوتے ہیں؟ جس کے جواب میں وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کورٹ مارشل میں ججز فوجی یونیفارم میں ہی ہوتے ہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے وکیل وزارت دفاع سے استفسار کیا کہ یونیفارم فوجی افسر بطور جج کیسے غیر جانبدار ہو سکتا ہے؟وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ یونیفارم تو آپ ججز نے بھی پہنا ہوا ہے ان کے اس جواب پر عدالت میں قہقہے لگ گئے، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کالی اور خاکی وردی میں کوئی فرق نہیں ہے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ پہلے چارج ہوا چارج کی بنا پر تفتیش ہوئی، ایف بی علی کیس میں بھی یہی بات ہوئی ہے ، پہلے چارج فریم ہوتا ہے پھر تفتیش ہوتی ہے، جب تک جرم کو آرمی ایکٹ کے مطابق ثابت نہیں کریں گے، کیا وہ ملٹری ٹرائل میں ہی آئے گا۔وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ چارج میں الزامات ثابت کروائے جاتے ہیں. جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ تفتیش میں چارج نہیں ہوتا، جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو آپ پڑھ رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ قانون ہے، یہ قانون جتنا بھی سخت ہو کیا یہ سویلین پر لاگو ہوگا؟ جس پر وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ تمام چیزیں عدالت کے سامنے رکھوں گا کہ کیسے لاگو ہوگا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ جو قانون آپ بتا رہے ہیں کیا ان پر واقعی عمل درآمد بھی ہوتا ہے؟ وکیل وزارت دفاع نے جواب دیا کہ ٹرائل سے قبل ملزم سے پوچھا جاتا ہے کہ جج پر اعتراض تو نہیں۔دوران سماعت جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس میں کہا کہ آج کل تو یہاں بھی ججز پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جواباً خواجہ حارث نے کہا کورٹ مارشل کے فیصلے اکثریت سے ہوتے ہیں، فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی، وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث دلائل جاری رکھیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…