پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

القادر یونیورسٹی میرے پاس آگئی ہے،مریم نواز

datetime 17  جنوری‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے 190 ملین پاؤنڈ کیس کے بعد القادر یونیورسٹی میرے پاس آ گئی ہے، وہاں کے بچوں کو بھی اسکالر شپ دوں گی۔راولپنڈی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا ملک کو نفرت نہیں اتحاد چاہیے، ملک کو انتشار نہیں امن چاہیے، میرا دل چاہتا ہے کہ بچوں کے ہاتھوں میں اسکالرشپ دوں پیٹرول بم نہیں، جن بچوں کو پیٹرول بم دیے گئے وہ آج جیلوں میں ہیں، انہیں پولیس پرحملوں کی ترغیب دی گئی، نوجوانوں کو ترغیب دی گئی کہ سوشل میڈیا پر جو دیکھیں اس پر آنکھیں بند کرکے یقین کر لیں، جنہیں ورغلایا گیا وہ آج جیلوں میں ہیں۔مریم نواز کا کہنا تھا میرے والد نے 45 سال ملک کی خدمت کی ہے، نواز شریف کو اقامہ پر نکالا گیا، مجھے اپنے والد کے ساتھ کھڑے ہونے کی سزا دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ آج 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ آیا، القادر ٹرسٹ کیس میں چوری ثابت ہوئی، عمران خان پہلا وزیراعظم ہے جو چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، بانی پی ٹی آئی عمران خان پہلے وزیراعظم ہیں جن کو کرپشن پر سزا سنائی گئی۔وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ آج کے فیصلے کے بعد پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی، یہ شخص اسی اڈیالہ جیل میں قید ہیں جس میں نواز شریف اور میں قید تھے، میرے سیل میں کیمرے لگائے گئے تھے، جیل میں ایک وقت کا کھانا دیا جاتا تھا، اچھی بات ہے میرا وزن کم ہو گیا۔

ان کا کہنا تھا وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا، اس شخص کو جیل میں اچھا کھانا اور دیگرسہولیات مل رہی ہیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔مریم نواز کا کہنا تھا القادر یونیورسٹی سرکاری تحویل میں دے دی گئی ہے، اب وہ یونیورسٹی میرے پاس آگئی ہے، القادر یونیورسٹی کے طلبا کو بھی اسکالرشپ دی جائے گی۔یاد رہے کہ احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کیس میں کرپٹ پریکٹس اور بدعنوانی پر 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے جبکہ جرم میں معاونت کرنے پر بشریٰ بی بی کو 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…