جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

26 ویں آئینی ترمیم چیلنج، کالعدم قرار دینے کیلئے درخواست دائر

datetime 22  اکتوبر‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)سندھ ہائیکورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کر دیا گیا۔سندھ ہائیکورٹ میں الٰہی بخش ایڈووکیٹ نے 26ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کیا۔ انہوں درخواست میں موقف اپنایا کہ پارلیمنٹ نے آئینی ترمیم کرکے عدلیہ کی آزادی،رول آف لاء کی خلاف ورزی کی ہے، آئینی ترمیم کے ذریعے ججز کی تعیناتی کے عمل میں ایگزیکٹیو کو مداخلت کی اجازت دیدی گئی ہے۔

درخواست میں کہاہے گیا کہ ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن آف پاکستان پر ایگزیکٹیو کا کنٹرول بڑھ گیا ہے، ججز تعیناتی میں سیاسی اثرورسوخ بڑھنے سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوگی۔درخواست میں سوال اٹھایا گیا کہ سیاستدان اگر ججز کی سالانہ پرفارمنس رپورٹ مرتب کریں گے تو عدلیہ آزادانہ کیسے کام کرسکتی ہے؟درخواست گزار نے کہا کہ ہائی کورٹ کے ججز کی سالانہ پرفارمنس رپورٹ صرف سپریم جوڈیشل کونسل مرتب کرسکتی ہے، آئینی درخواستیں عمومی طور پر حکومت کے خلاف ہوتی ہیں، ایگزیکٹیو کی بینچ کے قیام میں مداخلت مفادات کا ٹکرائو ہے۔درخواست گزار نے آئینی ترمیم عدلیہ کی آزادی پر براہ راست حملہ قرار دیتے ہوئے استدعا کی کہ آئینی ترمیم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ختم کرنے کا حکم دیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…