تحریک انصاف پر پابندی لگانے پر غور کیا جا رہا ہے: وزیر دفاع

24  مئی‬‮  2023

اسلام آباد(این این آئی)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 9 مئی کے پر تشدد واقعات کے تناظر میں پاکستان تحریک انصاف پر پابندی کا جائزہ لیا جارہا ہے،اگر تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا تو پارلیمنٹ سے رجوع کیا جائے گا، پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے گا،عمران خان نے اپنی سیاسی جنگ میں افواج کو فریق بنا دیا ہے، ایسا ماضی میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔

ہم نے کبھی دفاعی تنصیبات پر حملہ کرنے کا نہیں سوچا، 75 برس میں 9 مئی جیسے واقعے کی کوئی نظیر نہیں ملتی، عمران خان کی اپنی جماعت خود ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہی ہے، ان لوگوں کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، ایسے ایسے لوگ اب سامنے آرہے ہیں جو 4 سال تک ان کا دم بھرتے تھے،نوازشریف جب واپس آئیں گے تو قوم کے سامنے اپنا موقف رکھیں گے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ 9 مئی کو لوگوں نے کور کمانڈر ہائوس، جی ایچ کیو، کنٹونمنٹ بورڈ سمیت دیگر فوجی تنصیبات پر حملہ کیا، یہ سارے کے سارے مربوط حملے تھے، پی ٹی آئی کے اپنے لوگ بتا رہے ہیں کہ ان کو اس سب کیلئے تین چار مرتبہ بریفنگ دی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک برس کے دوران عمران خان کا ہر حربہ ناکام ہوگیا تھا اور 9 مئی کو ان کا افواج کے خلاف آخری حربہ بھی ناکام ہوگیا، ان کے گھنائونے عزائم تھے، ایسے عزائم بھارت کے تو ہوسکتے ہیں تاہم کسی پاکستانی کے نہیں ہوسکتے، ان تمام واقعات کے تناظر میں پی ٹی آئی پر پابندی کے امکانات ہیں، اس کا فیصلہ تو نہیں ہوا ناہم جائزہ ضرور لیا جارہا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ 9 مئی کو پی ٹی آئی نے ریاست کو چیلنج کیا اور اس کی نظریاتی و دفاعی اساس پر حملہ کیا، کوئی ایسا جرم نہیں جو 9 مئی کو سرزد نہیں ہوا، گوجرانوالہ میں 4 بندے مارے گئے، آئی ایس آئی کے دفتر پر حملہ کیا گیا، سیالکوٹ میں کینٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی، کور کمانڈر کے گھر میں بھی گھس گئے۔انہوں نے کہا عمران خان نے فوج کو اپنا حریف سمجھ لیا ہے۔

ان کی ساری سیاست فوج کی گود میں پروان چڑھی اور آج وہ ان کے خلاف بات کرتے ہیں، یہ محسن کش آدمی ہیں، ان کے اپنے لوگ جو ان کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں وہ خود یہ ساری باتیں بتا رہے ہیں کہ یہ سب پلاننگ کے تحت ہوا تھا۔انہوںنے کہاکہ کہ عمران خان نے اپنی سیاسی جنگ میں افواج کو فریق بنا دیا ہے، ایسا ماضی میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔خواجہ آصف نے کہا کہ نواز شریف کا ان تمام واقعات کے حوالے سے واضح موقف ہے، ان شا اللہ جب وہ واپس آئیں گے تو قوم کے سامنے اپنا موقف رکھیں گے۔

نواز شریف سمیت مسلم لیگ (ن) رہنمائوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوا لیکن ہم نے کبھی دفاعی تنصیبات پر حملہ کرنے کا نہیں سوچا، 75 برس میں 9 مئی جیسے واقعے کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔انہوںنے کہاکہ اگر تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا تو پارلیمنٹ سے رجوع کیا جائے گا، پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے گا اور یہ پی ڈی ایم جماعتوں کا مشترکہ فیصلہ ہوگا، عمران خان نے جو جو اقدامات اٹھائے اس پر بھارت نے خوشیاں منائیں کہ یہ سب تو ہم بھی نہیں کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کے حوالے سے عسکری قیادت کے تحفظات جائز ہیں، یہ ایک نئی صورتحال ہے جس سے ہمیں نمٹنا ہے، نواز شریف کی قیادت میں تمام اتحادی جماعتیں پر ممکن قدم اٹھائیں گی تاکہ آئندہ آنے والے روز میں کوئی ہماری افواج کو اپنی سیاست کا نشانہ نہ بنائے اور ان کے احترام پر کوئی حرف نہ آئے۔پی ٹی آئی چھوڑ کر جانے والوں سے متعلق سوال کے جواب میں انہوںے کہاکہ 9 اپریل کو تحریک عدم اعتماد کے بعد سے عمران خان نے جتنی بھی اقدامات اٹھائے وہ سب بیک فائر کر گئے۔

عمران خان اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہیں، ان کو اپنے اقدامات سے نقصان پہنچ رہا ہے، ہم ان کو کئی نقصان نہیں پہنچا سکے، اْن کے ان فیصلوں کے بوجھ تلے پی ٹی آئی بکھر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب کسی سیاسی جماعت پر لگنے والی پابندیاں جائز نہیں ہوتی تھیں یا پھر ان پابندیوں کے پیچھے سیاسی محرکات ہوتے تھے، مگر عمران خان کی اپنی جماعت خود ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہی ہے۔

ان لوگوں کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، ایسے ایسے لوگ اب سامنے آرہے ہیں جو 4 سال تک ان کا دم بھرتے تھے، اسد قیصر نے بھی شاید سائفر سے متعلق کوئی بیان دے دیا ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے 9 مئی کے واقعات کا مقصد مارشل لا کو دعوت دینا ہو لیکن میں یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ایسا کوئی امکان نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ عالمی اسٹیبلمشنٹ کا ہم پر کوئی دبائو نہیں ہے، ہمارے اپنے معاملات ہیں، ہمیں اپنے مفادات کا خود تحفظ کرنا ہے۔

موضوعات:



کالم



مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)


ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…

برداشت

بات بہت معمولی تھی‘ میں نے انہیں پانچ بجے کا…

کیا ضرورت تھی

میں اتفاق کرتا ہوں عدت میں نکاح کا کیس واقعی نہیں…