اسحاق ڈار معیشت کو وہاں لے گیا جہاں قومی سلامتی کو خطرہ ہے، آئی ایم ایف نے مصر کو کہا فوجی اخراجات کم کریں، سری لنکا کو کہا 50 فیصد اپنی فوج کم کریں، عمران خان نے خبردارکر دیا

27  جنوری‬‮  2023

لاہور( این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پلان اے اور بی کی ناکامی کے بعد پلان سی بنا ہے جس کے پیچھے آصف زرداری ہے ، اس کے تحت آصف علی زرداری نے مجھے راستے سے ہٹانے کے لئے دہشتگرد تنظیم کو پیسہ دیا ہے جس میں طاقتور لوگ سہولت کار ہیں ،میں نے جو پہلے چار نام دئیے تھے

اس میں اب آصف زرداری کا نام بھی شامل ہو گیا ہے ، زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ، میں نے تو باہر نکلنا ہے ، مجھے کچھ ہوا تو ساری قوم کو پتہ ہونا چاہیے کون لوگ تھے جنہوںنے یہ کروایا ،میری قوم ان کو معاف نہ کرے تاکہ یہ زندگی کو انجوائے نہ کر سکیں ، اس وقت ساری قوم کی امیدوں کا مرکز اعلیٰ عدلیہ ہے ،آپ آئین اور ہمارے بنیادی حقوق کی حفاظت کریں ، سات سے آٹھ ماہ میں بہت سے لوگ بے نقاب ہوئے ہیں ،عوام سے کہتا ہوں آپ حقیقی آزادی کی حتمی جنگ کیلئے تیار رہیں ، میں جب تک زندہ ہوں ان چوروں کو تسلیم نہیں کروں گا اور آخری گیند اور آخری سانس تک ان سے لڑوں گا ،ملک معاشی طور پر جس نہج پر پہنچ گیا ہے کہ اب قومی سلامتی کو خطرات لا حق ہو گئے ہیں ، جو ہمیں بیل آئوٹ کریں گے وہ قیمت مانگیں گے ، سری لنکا کو کہہ دیا گیا ہے کہ اپنی پچاس فیصد فوج کم کرو ، مصر سے کہا گیا ہے کہ اپنی فوج کے اخراجات کم کرو ،اس حکومت نے مزید 400ارب روپے ٹیکسز لگانے ہیں جو مہنگائی پیدا کریں گے،پیٹرول ، ڈیزل اور بجلی کی قیمتیں بڑھانی ہیں جس سے عام آدمی متاثر ہوگا،ملک کی سکیورٹی کی ہر اس پاکستانی کو فکر ہے جس کا جینا مرنا پاکستان میں ہے جن کا اسٹیک پاکستان میں نہیں انہیں کوئی فکر نہیں ۔ ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ رجیم چینج آپریشن سے ایک دفعہ ہماری معیشت ہل گئی ہے ،میں نے کہا تھا کہ سیاسی استحکام چلا گیا تو اسے کوئی سنبھال نہیں سکے گا،

جو تیس سال سے حکومتیں کر رہے ہیں ، جن کی وجہ سے سارے مسائل جن کے دور میں مسائل بڑھے وہ ملک کو نہیں سنبھال سکتے ۔ شوکت ترین نے بھی انہیں پوری طرح سمجھانے کی کوشش کی کہ ہم بڑی مشکل سے ملک کو سنبھال کر بیٹھے ہوئے تھے ۔انہوںنے کہاکہ کورونا میں سپلائی چین متاثر ہونے کی وجہ سے پوری دنیا میں انرجی بحران آیا جس سے قیمتیں اوپر چلی گئیں۔

اس وقت تیل 110سے115ڈالر فی بیرل پر چلا گیا جبکہ آج 85ڈالر فی بیرل پر ہے ،جب تیل ا وپر جاتا ہے سب کچھ اوپر چلا جاتا ہے ۔ ہم بڑا توازن رکھ رہے تھے، اس وقت پام آئل اور دالوں کی قیمتیں اوپر چلی گئیں ۔ہم نے انہیں کہا تھاکہ اگر آپ نے سازش کو کامیاب ہونے دیا تو معیشت نہیں سنبھلے گی ۔ آج معاشی ماہرین سے پوچھ لیں ، باہر مضمون لکھے جارہے ہیں جس میں پاکستان کی خوفناک اورخطرناک تصویر کشی کی جارہی ہے ۔

عمران خان نے کہا کہ دو روز میں ڈالر کے مقابلے میں روپیہ33روپے گرا ہے ، 9 ماہ میں ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 84روپے گرا ہے ،یہ اس لئے گر رہا ہے کیونکہ ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر 3.6ارب ڈالر پر آگ ئے ہیں، بھارت کے اس وقت لگ بھگ 600ارب ڈالر سے زائد کے ذخائر ہیں ۔ جب عدم اعتماد کی تحریک داخل کرائی گئی تھی تو اس وقت ہمارے ذخائر 16.4ارب ڈالر تھے اور جب ہم آئے تھے اس وقت یہ 8سے9ار ب ڈالر تھے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں کہتے تھے تباہی کر دی، مہنگائی کر دی ، اسحاق ڈار لندن سے بیان دیتا تھاکہ ڈالر کو میں ایسے کنٹرول کر لوں گا اور آتے ہی بڑھکیں بھی ماریں ۔ جن کے پاس لندن اور آف شو ر اکائونٹس میں پڑے ہوئے ہیں جو پوری محنت سے پیسہ چوری کرکے لے کر گئے ہیں ان کی دولت میں اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستانیوں کی دولت میں کمی ہو رہی ہے ۔میں قوم سے کہوں گاک ہ کبھی اس پارٹی کو ووٹ نہ دو جس کی لیڈر شپ کے پیسے ملک سے باہر پڑے ہوں ،

شریف اور زرداری خاندان کو کیا فرق پڑ ا رہا ہے یہ چوری کر کے ہنڈی حوالہ سے باہر بھجوا دیتے ہیں اور منگوانا ہو تو پاپڑ والے کے نام پر جعلی اکائونٹ کے ذریعے منگوا لیتے ہیں ، ان کے لانچوں کے ذریعے پیسے باہر جاتے ہیں ،ان کی چوری کے اثرات عام عوام پر پڑ رہے ہیں۔کیوں لوگ پاکستان میں پیسہ لے کر آئیں، کیوںبیرون ملک سے پاکستانی یہاں سرمایہ کاری کریں ، آج جو حالات ہیں اس کے بہت دور رس نتائج ہوں گے، رجیم چینج کے بعد اثرات اب آنے والے ہیں ۔

جب ہم تھے تو عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت110ڈالر کے اردگرد تھی اور ہمارے دور میں 150لیٹر پیٹرول اور ڈیزل 145روپے تھا ، آج عالمی منڈی میںفی بیرل قیمت85ڈالر کے قریب ہے جبکہ یہ 75ڈالر پر بھی آیا ہے لیکن قیمت سب کے سامنے ہے ،جب روپیہ گررہا ہے یہ اوپر چلا جائے گا ،ٹیکسز مزید نہ بھی لگائے یہ پھر بھی پیٹرول اور ڈیزل 50روپے لیٹر اوپر جائے گا۔ انہوںنے کہا کہ میں نے انہیں اس وقت بھی کہا تھاکہ بہتر ہے الیکشن کرا دو بہتر ہے لیکن انہیں اپنی چوری اور اپنے کرپشن کیسز ختم کرنا تھا ۔

جب ہم تھے تو مہنگائی کی شرح 12فیصد تھی اوراب مہنگائی 35فیصد پر جائے گی ، جو حساس اعشاریے ہیں جو لوگوں کو متاثرتی کرتے ہیں وہ ہم 16فیصد پر چھور کر گئے تھے تب عالمی منڈی میں قیمتیں بھی زیادہ تھیں آج یہ 45سے50فیصد پر جائے گی اورتاریخ میں سب سے زیادہ مہنگائی ہو گی ۔ ہمارے دور میں بھارت میں مہنگائی کی شرح7فیصد تھی ، آج 35فیصد ہو گئی ہے وہاں پر 6فیصد پر آ گئی ہے ، اس مہنگائی سے تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوگا، لوگوں کو صرف آٹا خریدنے کے لئے 18ہزار روپے خرچ کرنا پڑیں گے ،

ہمارے دور میں پیاز 44روپے کلو تھا آج 230روپے پر چلا گیا ہے ، بجلی کے بلوں پر ہمارے دور میں بھی شور مچ رہا تھا ، ہمارے دور میں 16روپے یونٹ تھا آج 36روپے یونٹ ہے اور روپیہ گرنے کے بعد یہ 8روپے یونٹ مزید مہنگا ہو گا، گیس کی قیمتوں میں47فیصد اضافہ ہوگا اور کہا جارہا ہے کہ گزشتہ جولائی سے قیمتیں وصول کریں ، اس سے ہماری انڈسٹری کی گروتھ ریٹ متاثر ہو گی ، انڈسٹری بند ہو رہی ہے ، کسان متاثر ہے ، یوریا کی قیمت بڑھنے سے کسانوں کا 60ارب روپے اضافی خرچ کرنا پڑا ہے ، آج پاکستان میںبیروزگاری بڑھ رہی ہے کیونکہ برآمدی انڈسٹری متاثر ہو رہی ہے ،

خام مال کی درآمد بند کرنے کی پالیسی سے ہماری برآمدات متاثر ہو رہی ہیں جس سے ڈالر آنا کم ہو گئے ہیں۔ امپورٹڈ ٹولے کے جاری کئے ہوئے اکنامک سروے کے مطابق کورونا کے باوجود ، عالمی قیمتیں بڑھنے کے باوجود ہمارے دور میں پاکستان کی چوتھے سال میں 6فیصد گروتھ ہوئی جو آج منفی میں چلی گئی ہے ، انڈسٹری بند ہو رہی ہے ، سروسز متاثر ہو رہی ہیں اس کے کیا اثرات پڑیں گے ۔ ہمارے دور میں18لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہم نے تین سال میں 55لاکھ نوکریاں دیں ،آج بیروزگاری ہے اور مزید آ رہی ہے ،لارج سکیل مینو فیکچرننگ 17سال بعد 12فیصد تھی ،

زراعت اور سروسز انڈسٹری اوپر گئی ، ریکارڈ ٹیکس کلیکشن ہوئی لیکن آج خوف آرہا ہے ۔ اسحاق ڈار 99میں چھوڑ کر گیا تھا تب بھی معیشت وینٹی لیٹر پر تھی، 2018ء میں اسی حالت میں چھوڑ کر گیا تھا اب آ کر وہاں پر لے گیا ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کو خطرات لا حق ہو گئے ہیں ، جنہوں نے بیل آئوٹ کرنا ہے ، جن سے ہم نے بھیک مانگیں گے ان کی شرائط ہوں گی،وہ ایک قیمت مانگیں گے ، آج سری لنکا کو کہا گیا کہ اپنی پچاس فیصد فوج کرو ، مصر سے کہا گیا ہے اپنی فوج کے اخراجات کم کرو ، جو بھی بیل آئوٹ کرے گاہ شرائط لگائے گا، اس حکومت نے مزید 400ارب روپے ٹیکسز لگانے ہیں

جو مہنگائی پیدا کریں گے،پیٹرول ، ڈیزل اور بجلی کی قیمتیں بڑھانی ہیں جس سے عام آدمی متاثر ہوگا،ملک کی سکیورٹی کی ہر اس پاکستانی کو فکر ہے جس کا جینا مرنا پاکستان میں ہے جن کا اسٹیک پاکستان میں نہیں انہیں کوئی فکر نہیں ۔ انہوںنے کہا کہ جن چند لوگوںنے رجیم چینج کے ذریعے سازش کر کے حکومت گرائی تھی انہوںنے آٹھ ماہ میں کوئی سبق نہیں سیکھا ،ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ آپ جلدی سمجھتے کہ غلطی ہو گئی اور اس کی اصلاح کا ایک ہی طریقہ تھاکہ صاف اور شفاف انتخابات کرا دیں بجائے اس طرف جانے کے مزید پاکستان کو دلدل میں دھکیل رہے ہیں ۔ انہیں عوام کا خوف ہے کہ

عوام نے ان سے سوال پوچھنا ہے کہ سازش کے تحت کیوںلے کر آئے تھے کون ذمہ دا ر تھے ، عوام کے منہ بند کرنے کے لئے ساری حرکتیں ہو رہی ہیں ۔ قوم کو فیصلہ کرنے دیں وہ جس کو بھی لے کر آئیں ، مینڈیٹ سے مشکل وقت سے نکالے الٹا آپ دوسری طرف نکل گئے ہیں، جو طاقتور بیٹھے ہوئے ہیں وہ پاکستان کو کدھر لے کر جارہے ہیں، جمہوریت کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں ،ملک کو ایک فاشزم کی طرف لے کر جارہے ہیں، خوف و ہراس پھیلایا جارہا ہے ۔ ہمارے ساتھ ایسے کیا گیا جیسے غداروں سے کیا جاتا ہے ، جیسے ہم بیرون ملک سے غدار آئے ہوں ، کبھی نہیں سوچا تھا کہ اپنے لوگوں سے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے جائیں گے ،

فواد چوہدری کو اٹھا لیا ، وارنٹ دکھا کر دن کی روشنی میں اٹھائو، آپ رات میں آتے ہو ، ہم کوئی قوم کے مجرم ہیں ، صرف آواز بند کرنے کے لئے سب کچھ ہو رہا ہے ، یہ جمہوریت ختم کرانے کے لئے ہے ، یہ اس لئے ہے کہ ان چوروں کے پیچھے لگ جائیں اور گھبرا کر کہیںچلیں ٹھیک ہیں ہم چور ہی قبول کرتے ہیں۔ میں قوم کو بتانا چاہتا ہوں جو یہ لوگ کر رہے ہیں یہ ملک کو ادھر لے کر جارہے ہیں جو سب کے ہاتھوں سے نکل جانا ہے اور ہم اس کے قریب پہنچ گئے ہیں،ایک طرف مہنگائی اور دوسری طرف بیروزگاری آرہی ہے ، اب آواز اٹھنے والی ہے ۔ جمہوری طریقے کی بجائے یہاں سیاسی استحکام پیدا کر کے خوف و ہراس پھیلایا جارہا ہے ،

دیوار سے لگایا جارہا ہے ، اس سے پاکستان مزید دلدل سے پھنسے گا۔ عمران خان نے کہا کہ معیشت تو جارہی ہے چن چن کر ادارے بھی تباہی کی طرف لے جارہے ہیں،وفاقی پارلیمنٹ میں راجہ ریاض جیسا شخص قائد حزب اختلا ف بن گیا اور وہ کہہ رہا ہے کہ میں (ن) کی ٹکٹ سے الیکشن لڑوں گا یہ قائد حزب اختلاف ہے ۔ ایف آئی اے کا کام کرپشن پکڑنا ہے اسے شہباز شریف اور خاندان کی کرپشن معاف کرانے پر لگا دیا گیا ہے ، اس ادارے کے ذریعے ہمارے خلاف انتقامی کارروائیاں ہو رہی ہیں، میرے اوپر 70ایف آئی آرز ہیں ، صرف اس لئے کہ ہمارے منہ بند ہو جائیں ، کیا اس سے ملک ٹھیک ہو جائے گا، ہمارے دور میںنیب نے 480ارب روپے ریکور کیا تھا ،

اب نیب نے 1100ارب روپے ریکور کرنا تھا وہ معاف ہو گئے ہیں، اپنی چوری کو ختم کرنے کے لئے نیب کے ادارے کو بھی ختم کر دیا ہے ، وائٹ کالر کرائم کو چوری کرنے کا لائسنس دیدیا ہے ، نیب کی اب کوئی طاقت نہیں رہ گئی ۔عدلیہ اور ہمارا جو انصاف کا نظام ہے اس پر دبائو ڈالا ہوا ہے یہ قانون کی حکمرانی کے لئے نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی نہ ہو اس لئے دبائو ڈالا جارہا ہے ۔انہوںنے کہا کہ پنجاب میں ہمارے بد ترین مخالف کو نگران وزیر اعلیٰ پنجاب بنا دیا گیا ہے ، خیبر پختوانخواہ میں جو کابینہ آئی ہے وہ ساری تحریک انصاف مخالف ہے ، ہمارے اوپر ایف آئی آرز ہو رہی ہیں ،کیا قوم کو اتنا بیوقوف سمجھا ہوا ہے کہ بد ترین مخالفت کو نیوٹرل کہیں۔

ہماری چلتی سکیمیں بند کر دیں یہ سب غیر قانونی ہے ۔جو اداروں کے سربراہ لگے ہوئے تھے وہ غیر سیاسی تھے ان کو ہٹادیا گیا ، میر ے اوپر حملے کیس کی جے آئی ٹی بند کر دی گئی ، جو وفاق کی بنائی گئی جے آئی ٹی ہے اس کے سربراہ نے تحقیقاتی افسر کو معطل کر دیا اور ریکارڈ سیل کر دیا ہے ۔عمران خان نے کہا کہ پہلے ان کا پلان اے تھا اور میں نے چار لوگوں کے نام کے ساتھ ویڈیو ریکارڈ کر اکے باہر بھجوا دی تھی ۔ اس کا انہیں پتہ چلا تو پلان بی بنایا گیا جس کے تحت مجھے مذہبی انتہا پسند سے قتل کرانے کی منصوبہ بندی کی گئی اور میرے اوپر حملہ ہوا ، اس کے بعد پلان سی بنا ہے ، آصف علی زرداری اس کے پیچھے ہے ،اس کے پاس کرپشن کا بے تحاشہ پیسہ ہے ،

سندھ حکومت سے پیسہ لوٹتا ہے تو انتخابات پر لگا دیتا ہے ، کبھی سینیٹ انتخابات میں اراکین صوبائی اسمبلی کی خریداری پر لگا دیتا ہے کبھی گلگت بلتستان اورآزاد کشمیر میں پھینک دیتا ہے ، اس نے ایک دہشتگردی تنظیم کو پیسہ دیا ہے اور اس کے ذریعے انہوںنے اگلی واردات کرنی ہے ، میں نے جو پہلے چار نام دئیے اس میں اب آصف علی زرداری کا نام بھی آئے گا۔ زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ، میں انتخابی مہم پر نکلوں گا یا ویسے ہی مہم چلائوں گا ۔اگرمجھے کچھ ہوا تو میری قوم ان کو معاف نہ کرے تاکہ یہ زندگی انجوائے نہ کر سکیں ۔ انہوںنے کہا کہ عدلیہ سے کہنا چاہتا ہوں کہ ساری قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے یہ پاکستان کے لئے فیصلہ کن وقت ہے ،عدلیہ کا بہت بڑا امتحان ،

ہم سب اور قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے ،آپ نے ملک کی جمہوریت اورانسانی حقوق کو بچانا ہے ۔ جس طرح کی نگران حکومت بنائی گئی ہے یہ آئین اور قوم کی توہین ہے ۔ یہ کہتے ہیںانتخابات نہیں ہو رہے ، اس میں آئین بڑا واضح ہے اگر 90روز میں جو انتخابات نہیں کراتا سیدھا سیدھاآرٹیکل 6ہے ۔ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ انتخابات نہ ہوں۔ انہیںجمہوریت اور ملک کی کوئی فکر نہیں ۔ اصل میں یہ عوام سے ڈرے ہوئے ہیں ۔ عدلیہ سے اپیل ہے کہ آئین کو بھی تحفظ دیں اور بنیادی حقوق کا بھی تحفظ کریں ۔ ہمارا ملک بنانا ریپبلک کی طرف تقریباًچلا گیا ہے ۔ عوام کیلئے حقیقی آزادی کی حتمی جنگ ہے ۔ خوف پھیلایا جارہا ہے ،پکر لیں گیں،خوف کی غلامی بد ترین غلامی ہے ، سب کو جدوجہد کرنے کیلئے

تیار ہونا پڑے گا ۔ میں جب تک زندہ ہوں کرپٹ سسٹم ، چوروں اور جو غلام بنانے کی کوشش کرے گا ان کے خلاف آخری گیند اور آخری سانس تک لڑوں گا۔ تاریخ میں کبھی کبھی ایسے مواقع آتے ہیں ، اگر ہم چپ کر کے بیٹھ کر گئے جس طرح ظلم کا نظام بن رہا ہے یہ اور زیادہ ظلم کے ذریعے غلام بنائیں گے ۔ کھڑے ہوتے جائیںگے تو اللہ کی مدد آئے گی ۔عوام سے اپیل کر رہا ہوں کہ آپ نے آنے والے دنوں میں جدوجہد کے لئے تیار رہنا ہے، میں اس کے لئے پوری طرح تیار ہوں میںآخری دم تک کھڑا ہوں گا، ہمیں اپنے بچوں کے مستقبل کو بچانے کے لئے کھڑا ہونا ہے ، تیار رہیں آنے والے دنوں میں ظلم کیا تو ہم سب کھڑے ہوں گے ، میں مکمل صحتیابی کے بعد دو ہفتے میںکھڑا ہو جائوں گااور پھر نکلوں گا۔

موضوعات:



کالم



اللہ کے حوالے


سبحان کمالیہ کا رہائشی ہے اور یہ اے ایس ایف میں…

موت کی دہلیز پر

باباجی کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا تھا‘ ساہو…

ایران اور ایرانی معاشرہ(آخری حصہ)

ایرانی ٹیکنالوجی میں آگے ہیں‘ انہوں نے 2011ء میں…

ایران اور ایرانی معاشرہ

ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں ‘ ہم اگر…

سعدی کے شیراز میں

حافظ شیرازی اس زمانے کے چاہت فتح علی خان تھے‘…

اصفہان میں ایک دن

اصفہان کاشان سے دو گھنٹے کی ڈرائیور پر واقع ہے‘…

کاشان کے گلابوں میں

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے‘ یہ سارا…

شاہ ایران کے محلات

ہم نے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

امام خمینی کے گھر میں

تہران کے مال آف ایران نے مجھے واقعی متاثر کیا…

تہران میں تین دن

تہران مشہد سے 900کلو میٹر کے فاصلے پر ہے لہٰذا…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…