وفاقی حکومت کا رانا ثنا اللہ کیخلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ

  ہفتہ‬‮ 17 اپریل‬‮ 2021  |  15:01

راولپنڈی(این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ کے خلاف سرکاری افسران کو دھمکیاں دینے پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کرکے کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ رانا ثناء اللہ نے چیف سیکرٹری پنجاب اور کمشنر لاہور سمیت افسران کے خلاف وہی زبان استعمال جو متحدہ قائد اور مذہبی جماعتنے کی تھی ،آئین کی حدود میں رہ کر سیاست کرنی چاہیے، شریف خاندان کی رہائش گاہ جاتی امرا کو گرانے کا کسی کا پروگرام نہیں،یہ نہیں ہوگا سرکاری زمین پر قبضہ کریں گے توکچھ ہم نہ کریں،جمہوریت میں مختلف


نقطہ نظر سمجھ آتا ہے ،حکومت کو بلیک میل نہیں کیا جاسکتا،مذہبی جماعت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کسی بین الاقوامی دباؤ میں نہیں لیا گیا،امید ہے جہانگیر ترین اپنا مقدمہ عدالت میں لڑیں گے۔ڈسٹرکٹ ہسپتال کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ کسی کو اجازت نہیں کہ وہ سرکاری افسران کو دھمکی دے چاہے وہ رانا ثنا اللہ ہو یا کوئی اور۔انہوں نے کہا کہ آئین کی حدود میں رہ کر سیاست کرنی چاہیے، وفاقی وزیر اطلاعات نے مزیدکہا کہ شریف خاندان کی رہائش گاہ جاتی امرا کو گرانے کا کسی کا پروگرام نہیں۔انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کو رپورٹ آئی کہ کئی اراکین اسمبلی نے اپنے حلقوں میں زمینوں پر قبضے کر رکھے ہیں جس پر انہوں نے انکوائری کا حکم دیا تھا۔انہوں نے کہا کہانکوائری میں پتہ چلا کہ سرکاری زمین ایک بے نامی بوڑھی عورت کے نام پر منتقل کی گئی اور پھر نواز شریف کی والدہ کے نام وہ زمین منتقل ہوگئی۔انہوںنے کہاکہ یہ کھلی بددیانتی تھی اس پر کارروائی ہوئی اور ریونیو اتھارٹیز نے نوٹسز جاری کیے، مسلم لیگ (ن) کے پاس حق ہے کہوہ ریونیو اتھارٹیز کے نوٹسز کو چیلنج کرے اس پر سارے قانونی راستے موجود ہیں تاہم دھمکیوں کا راستہ اپنایا جائیگا تو کارروائی ہوگی۔فواد چوہدری نے کہا کہ پنجاب حکومت نے وزیراعظم کے حکم پرصوبے میں کارروائی کی اور لوگوں سے زمینیں چھڑائی گئیں، کھوکھر برادران نےسرکاری زمین پر قبضہ کرکے پیلس بنایا تھا اس کے علاوہ دانیال عزیز سمیت بڑے ممبران قومی اسمبلی کے نام شامل ہیں، ہم نے ان سب سے زمینیں واگزار کرائیں۔انہوں نے کہا کہ ہم قانونی طریقہ کار کے تحت کام کریں گے، یہ نہیں ہوگا کہ سرکاری زمین پر قبضہ کریں گے تو کچھ نہ کریں۔گزشتہ روز ملک بھر میں سوشل میڈیا سروس بند کرنے کے وزارت داخلہ کے احکامات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ سوشل بند کرنے پر افسوس ہے تاہم وہ ضروری تھا۔جاری دھرنوں کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ اس طرح کے معاملات میں کچھ درست لوگ بھیشامل ہوتے ہیں، درحقیقت کوئی مسلمان ہو ہی نہیں سکتا جب تک اسے جان و مال سے زیادہ پیغمبر اکرم ۖکی حرمت پیاری نہ ہو۔انہوںنے کہاکہ یہ اصول سب پر لاگو ہوتے ہیں تاہم ان پر سیاست کرنا اور آخری نبی ۖ کی ذات پر اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دینا بدقسمتی ہے۔انہوںنے کہاکہ ماضیمیں ہم نے فرقہ وارانہ فسادات دیکھے اور جب ان پر تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ایسی جماعتوں کو بھارتی ایجنسی را کا تعاون حاصل تھا، اس میں دو رائے نہیں کہ ہمارے لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی دشمن ملک کے ہاتھوں استعمال ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے فتنے جس سے ملک کمزورہو اور ملک کی عالمی حیثیت متاثر ہو اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی، سیکیورٹی اداروں نے اس فتنے کو ناکام بنایا وہ قابل ستائش ہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ جمہوریت میں مختلف نقطہ نظر سمجھ آتا ہے تاہم حکومت کو بلیک میل نہیں کیا جاسکتا۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ پاکستاندنیا کا پانچویں بڑا اور ایٹمی طاقت والا ملک ہے، دنیا کی سپر پاور امریکا افغانستان میں فتح یاب نہ ہوسکی لیکن پاکستان نے ایسے عناصر کو شکست دی جن کے خلاف امریکا نبرد آزما تھا، پاکستان کی ریاست بالکل کمزور نہیں، اگر کسی کو کوئی شک ہے تو وہ دور کرلے۔ انہوں نےکہاکہ پاکستان کی ریاست ایک عظیم ریاست ہے اور اسے بہت آگے بڑھنا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ مذہبی جماعت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ ہمارا اپنا فیصلہ تھا اور یہ کسی بین الاقوامی دباؤ میں نہیں لیا گیا۔انہوںنے کہاکہ کسی حکومت، بیرونی یا طاقتور ملک نے اس طرح کےایکشن کا مطالبہ نہیں کیا،یہ ہمارا داخلی فیصلہ تھا، امن و امان کے قیام کیلئے وزارت داخلہ، وزارت مذہبی امور، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس سمیت صوبائی حکومتوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،مشترکہ کاوشوں کی بدولت کامیابی ممکن ہوئی ۔


زیرو پوائنٹ

درمیان

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎