اندھا بانٹے ریوڑیاں، مڑ مڑ اپنوں کو دے سینٹ الیکشن ، کو ن سا امیدوار کس کا رشتے دار ہے؟

  بدھ‬‮ 3 مارچ‬‮ 2021  |  10:09

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف نے کے پی کے میں سینیٹ انتخابات کے لیے 11 امیدواروں کو ٹکٹ دیے ہیں۔ پی ٹی آئی امیدوار محسن عزیز ، فیصل سلیم، لیاقت ترکئی اور ذیشان خانزادہ ارب پتی صنعت کار ہیں۔جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق فیصل سلیم، لیاقت ترکئی اور ذیشان خانزادہ سابق سینئر وزیر خیبرپختونخوا عاطف خان کے رشتے دار ہیںجب کہ لیاقت ترکئی صوبائی وزیر تعلیم شہرام ترکئی کے والد ہیں۔ ٹیکنوکریٹ کی نشستوں پر دوست محمد محسود اور ڈاکٹر ہمایوں مہمند کا شمار وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ نجی اللہ خٹک کا تعلق مڈل


کلاس سے ہے جب کہ خواتین کی نشستوں پر ثانیہ نشترکو احساس پروگرام بہتر انداز میں چلانے اور فلک ناز چترالی کو پارٹی کی دیرینہ ورکر ہونے پر ٹکٹ دیا گیا۔ اقلیتی نشست پر پی ٹی آئی کے امیدوار گردیپ سنگھ سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی کابینہ میں شامل سورن سنگھ کے برادر نسبتی ہیں،سینیٹ انتخابات میں اے این پی کے امیدوار ہدایت اللہ خان بھی ارب پتی ہیں، اے این پی کے دیگر امیدواروں کا تعلق متوسط گھرانوں سے ہے۔ جے یو آئی(ف) نے جنرل نشست پرمولانا عطا الرحمان کو ٹکٹ دیا جو مولانا فضل الرحمان کے بھائی ہیں، جے یو آئی کے دیگر امیدواروں کا تعلق مڈل کلاس خاندانوں سے ہے اور وہ پارٹی کے پرانے کارکن ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی نے جنرل نشست پرفرحت اللہ بابر جب کہ خواتین کینشست پرشازیہ طہماس کو ٹکٹ دیا، دونوں پارٹی کے وفادار اور پرانے کارکن ہیں ۔مسلم لیگ(ن) نے جنرل نشست پر عباس آفریدی کو امیدوار بنایا ہے جو ارب پتی ہیں، (ن) لیگ کے دیگر امیدواروں کا تعلق مڈل کلاس خاندانوں سے ہے۔ جماعت اسلامی کے تمام امیدوار پارٹی کے پرانےکارکن ہیں جب کہ بلوچستان عوامی پارٹی کی صوبائی اسمبلی میں نشستوں کی تعداد چار ہے۔ پارٹی کی جانب سے جنرل نشست پرتاج محمد آفریدی میدان میں ہیں جو ارب پتی ہیں اور ان کے دو بھتیجے رکن اسمبلی ہیں۔تاج محمد آفریدی شاہ جی گل کے چھوٹے بھائی بلاول آفریدی اور شفیق شیر آفریدی کے چچا ہیں جب کہ شکیل آفریدی تاج آفریدی کے بھتیجے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

اللہ ہی رحم کرے

مغل بادشاہ شاہ جہاں کے پاس ایک ترک غلام تھا‘ وہ بادشاہ کو پانی پلانے پر تعینات تھا‘ سارا دن پیالہ اور صراحی اٹھا کر تخت کے پاس کھڑا رہتا تھا‘ بادشاہ اس کی طرف دیکھتا تھا تو وہ فوراً پیالہ بھر کرپیش کر دیتا تھا‘ وہ برسوں سے یہ ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا اور بڑی حد تک بادشاہ ....مزید پڑھئے‎

مغل بادشاہ شاہ جہاں کے پاس ایک ترک غلام تھا‘ وہ بادشاہ کو پانی پلانے پر تعینات تھا‘ سارا دن پیالہ اور صراحی اٹھا کر تخت کے پاس کھڑا رہتا تھا‘ بادشاہ اس کی طرف دیکھتا تھا تو وہ فوراً پیالہ بھر کرپیش کر دیتا تھا‘ وہ برسوں سے یہ ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا اور بڑی حد تک بادشاہ ....مزید پڑھئے‎