اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

(ق) لیگ نے حکومت مارچ میں گرانے کا وعدہ کیا لیکن دھوکہ دیدیا مولانا فضل الرحمن کا( ق) لیگ کے حوالے سے سنسنی خیز انکشاف

datetime 4  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)(ق)لیگ اعتماد کے قابل نہیں رہی ۔ ق لیگ نے موجودہ حکومت کو مارچ کے مہینے میں گرانے کا وعدہ کیا تھا لیکن دھوکہ دیدیا، مولانا فضل الرحمن کا ق لیگ کے حوالے سے سنسنی خیز انکشاف ۔ روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق ایک انٹرویو میں

سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ قاف لیگ کم از کم میرے نزدیک تو قابل اعتماد نہیں رہی ہے کیونکہ انہوں نے جو کھیل کھیلا ہے اس سے لگا ہے کہ وہ کسی کے لئے استعمال ہوگئے ۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں میں سے کوئی بھی ڈیل نہیں کرسکتا ، سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کے حوالے سے ماضی کا ایک تجربہ موجود ہے جو کسی بھی صورت تحریک عدم اعتماد کو جاندار نہیں کہہ رہا ہے ۔ جس پارٹی نے اس حوالے سے بات کی ہے وہ تمام فورم پر مطمئن کرے گی تو پھر تبھی اس کو پی ڈی ایم کا فیصلہ کہا جائے گا ۔ پی ڈی ایم اور جمعیت علما اسلام کے سربراہ فضل الرحمن نے مزید کہا کہ تحریکوں کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے کہ وہ فورا ًکارروائی کرنے کے بجائے کچھ مزید وقت دیا جاتا ہے تاکہ حجت پوری ہوجائے ،پی ڈ ی ایم ایک جمہوری تحریک ہے اور اس کے تمام طور طریقے اور حکمت عملی اصولوں کی بنیاد پر ہوتی ہے کچھ لوگ خوش فہمی میں مبتلا ہیں۔ پی ڈی ایم کی طرف سے اکتیس دسمبرکی

تاریخ دی گئی تھی کہ تمام پارلیمانی اراکین استعفیٰ پارٹی لیڈرز کے پاس جمع کرائیں گے وہ ہدف مکمل ہوگیا ،دوسرا ہدف یہ تھا کہ 31جنوری تک مستعفی ہوجائیں اس کے معنی یہ ہے کہ ایک وقت دینا پڑتا ہے ان کو بھی اور اس دوران اپنے کارکن ایک بڑے فیصلے کے انتظار میں

تیاریاں بھی کرتے ہیں اور اس کے لیے ان کو منظم ہونا پڑتا ہے خود اپنی جماعت کی صفوں میں بھی اور تمام پارٹیوں کے درمیان ایک مشترکہ اقدام کے لیے تیاری بھی کرنی پڑتی ہے اس لیے یہ وقت دینے پڑتے ہیں ،کارکن کو بھی عوام کو بھی اور حکومت پر بھی حجت تمام کرنی ہوتی ہے

چنانچہ وہ وقت گزر چکا ہے رعایت کے دن ختم ہوچکے ہیں سخت فیصلوں کے دن قریب آچکے ہیں ،پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں پی ڈی ایم کے ایجنڈے پر ایک ہیں بہت سی باتیں اس لیے ہو رہی ہیں کہ تحریک میں کچھ گیپ آیا ہے وہ تحریک کا نہیں ہے بے نظیر کی شہادت کے بعد ان کے گھر میں ایک خوشی آئی انہوں نے اس خوشی کو فوکس کیا اور ہم نے بھی ان کو ٹائم دیا اور لحاظ رکھا ہے کہ جو تقریبات ہیں وہ تسلی کے ساتھ انجام پاجائیں اگر اس طرح کی کچھ چیزیں بیچ میں آجاتی ہیں اس کو دوسرے معنی پہنانا مناسب نہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…