اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

یہ کسی کے باپ کا نہیں عوام کا ملک ہے، اپنی حکومت میں دوہرا معیار نہیں چلنے دوں گا، وزیراعظم عمران خان کی چیئرمین ایف بی آر پر چڑھائی

datetime 3  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ کسی کے باپ کا نہیں عوام کا ملک ہے، وہ دور گیا جب اشرافیہ کی معلومات عوام تک نہیں پہنچتی تھی، اپنی حکومت میں دوہرا معیار نہیں چلنے دوں گا، دکاندار کا ٹیکس ریکارڈ پتہ چل سکتا ہے تو شوگر مل مالکان کا کیوں نہیں؟،چیئر مین ایف بی آر بتائیں 15دن میں کام کیوں

نہیں ہو سکا؟،عام دکاندار کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے وہی بڑے شوگر مل مالکان کے ساتھ ہو گا۔بدھ کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت شوگر کمیشن رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے سفارشات پر عملدرآمد کیلئے نو کمپرومائز پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ بتایا کہ شوگرفیکٹریوں کے فارنزک آڈٹ میں ثابت ہونے والے گھپلوں پربھی کارروائی کی گئی اور ٹیکس ریکارڈمیں ٹیمپرنگ کرنیوالی فیکٹریوں کو 345 ارب کے ٹیکس ڈیمانڈ نوٹس جاری کئے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ شوگر کمیشن رپورٹ کے بعد سے حکومت کو سیل ٹیکس کی مد میں 80 فیصد سے زائد ریکوری ہوئی ہے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ پہلے 16 ارب ٹیکس ملتا تھا اب ٹیکس29ارب روپے تک پہنچ گیا۔اجلاس میں 2015ء میں لیگی حکومت کی جانب سے ایف بی آر کے قانون میں غیر ضروری ترمیم کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ایف بی آر کو جان بوجھ کر سیل ٹیکس کا ریکارڈ کسی سے شیئر نہ کرنے کا پابند بنایا گیا۔ایف بی آر کو حکومتوں سے بھی معلومات کے تبادلے سے روکا گیا۔وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی کے باپ کا نہیں عوام کا ملک ہے،وہ دور گیا جب اشرافیہ کی معلومات عوام تک نہیں پہنچتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میری حکومت میں دوہرا معیار

نہیں چلنے دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ دکاندار کا ٹیکس ریکارڈ پتہ چل سکتا ہے تو شوگر مل مالکان کا کیوں نہیں؟۔وزیراعظم نے کہاکہ چیئر مین ایف بی آر بتائیں معاملہ میرے علم میں آنے کے 15دن بعد بھی یہ کام کیوں نہیں ہو سکا؟۔وزیراعظم نے کہا ہے کہ شوگرکمیشن رپورٹ کی سفارشات پر مکمل عملدرآمد کرایا جائے گا،بروقت کام

مکمل نہ ہوا تو ذمہ داروں کے خلاف ایکشن ہوگا۔وزیراعظم نے شوگر فیکٹریوں کے باہر کیمرے نہ لگانے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اچھی طرح جانتا ہوں کہ تاخیری حربے کون کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بروقت کام مکمل نہ ہوا تو ذمہ داروں کے خلاف ایکشن ہوگا۔وزیراعظم نے کہا کہ عام دکاندار کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے وہی بڑے شوگر مل مالکان کے ساتھ ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…