جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان نے اپیل کا حق پہلے ہی چھوڑ دیا تھا نیب براڈ شیٹ معاہدے سے متعلق مزید انکشافات

datetime 18  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نیب براڈشیٹ معاہدہ، پاکستان نے اپیل کا حق پہلے ہی چھوڑ دیا تھا۔مصالحت کار کی تقرری اسلام آباد کی مرضی سے ہوئی،پاکستان کے بجائے غیرملکی قوانین کا اطلاق کیا گیا۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ کی شائع خبر کے مطابق نیب نے براڈشیٹ سے جون 2000 میں

کیے گئے معاہدے میں مصالحتی عدالت کے اپنے خلاف آنے والے فیصلے پر اپیل کا حق چھوڑ دیا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ جس مصالحتی عدالت نے فیصلہ سنایا ہے۔ اس کی تقرری پاکستان کی مرضی سے کی گئی تھی اور یہ بات معاہدے میں لکھی ہوئی ہے۔ معاہدے کی شق 7.1 کے مطابق، اس معاہدے کے حوالے سے کسی بھی قسم کے تنازعے کی صورت میں مصالحت کار اسے حل کرے گا۔ جب کہ اپیل کا حق متفقہ طور پر طرفین کی مرضی سے خارج کردیا گیا ہے۔ یہ مصالحت چارٹرڈ انسٹیٹیوٹ آف آربیٹریٹرز لندن کے قواعد کے مطابق ہوگی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس معاہدے پر دستخط پاکستان میں ہوئے تھے مگر اس کی شق 6.1 میں کہا گیا ہے کہ اگر تنازعہ پاکستانی قوانین کے مطابق نا ہو تو اس پر ریاست کولوراڈو اور امریکا کے قوانین کا نفاذ ہوگا۔ معاہدے کے پیرا 4 میں کہا گیا ہے کہ نیب اور براڈشیٹ اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ براڈشیٹ کی کوششوں کی وجہ سے اگر کوئی بھی اثاثے بازیاب ہوتے ہیں یا نیب اور کسی فرد یا ادارے کے درمیان

معاہدے کی صورت میں ایسا ہوتا ہے تو شق 1.2 کے تحت اس کا اشتراک مشترکہ طور پر کیا جائے گا۔ کسی بھی قسم کے شکوک وشبہات کے خاتمے کے لیے بازیاب اثاثوں کے شیئرز کا اطلاق نیب کے کیے گئے کسی بھی معاہدے پر بھی ہوگا بشرط یہ کہ ایسا فرد یا ادارہ معاہدے سے قبل

رجسٹرڈ ہو۔ شق 4.2 میں کہا گیا ہے کہ براڈشیٹ کو بازیاب رقم کا 20 فیصد بمعہ بونس جب کہ نیب کو 80 فیصد حصہ کم بونس کے ساتھ ملے گا۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق اس طرح کے فوائد غیرملکیوں کو دیئے جاتے ہیں بشرط یہ کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔ جب کہ اس کیس

میں ایسی کمپنی کو یہ فوائد دیئے گئے جو کہ کاروبار کی تلاش میں تھی۔ اسی طرح ایک اور شق 18.7 میں کہا گیا ہے کہ براڈشیٹ کو دی گئی پاور آف اٹارنی ناقابل تنسیخ ہے۔ نیب اور براڈ شیٹ اس بات پر متفق تھے کہ معاہدہ اور پاور آف اٹارنی مکمل طور پر قابل عمل رہے گا اور اس میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ معاہدے میں پاکستان کو یک طرفہ طور پر معاہدہ ختم کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…