حکومت نے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کر دیا

  جمعہ‬‮ 15 جنوری‬‮ 2021  |  12:01

اسلا آباد (این این آئی)وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے باعث بند کیے گئے تعلیمی ادارے کھولنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے کہاہے کہ پہلی سے 8ویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے تعلیمی ادارے 25 جنوری کے بجائے یکم فروری سے کھولے جائیں گے،18 جنوری کو نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت کے لیے تعلیمی ادارے کھل جائیں گے،تعلیم کا سلسلہ امتحان کی نسبت سے دوبارہ شروع ہو جائے گا، روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہونے والے کیسز کم ہو کر 2 ہزار 300 تک پہنچے ہیں ، ابھی


بھی انفیکشن کی شرح زیادہ ہے،شدید بیمار مریض 570 کے قریب تھے، روز 5 اموات ہو رہی تھیں اور روزانہ جو کیسز آ رہے تھے وہ 600 کے قریب تھے ،شہروں میں انفیکشن کی شرح کو دیکھتے ہوئے کوئی پالیسی مرتب کی جائے گی۔ جمعہ کو یہاں وزرائے تعلیم کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 9ویں سے 12ویں جماعت کے طلبہ کے لیے تعلیمی ادارے گزشتہ فیصلے کے مطابق 18جنوری سے ہی کھول دیے جائیں گے۔شفقت محمود نے کہا کہ 15 ستمبر کو جب ہم نے تمام تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا تھا تو اس وقت وائرس کے کیسز مثبت آنے کی شرح 1.9 کے قریب تھی۔انہوں نے کہا کہ شدید بیمار مریض 570 کے قریب تھے، روز 5 اموات ہو رہی تھیں اور روزانہ جو کیسز آ رہے تھے وہ 600 کے قریب تھے۔ انہوںنے کہاکہ 26 نومبر کو جب ہم نے تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا تو اس وقت مثبت کیسز کی شرح 1.9 سے بڑھ کر 7.14 پر چلی گئی تھی، شدید بیمار مریضوں کی تعداد 570 سے بڑھ کر ایک ہزار 958 تک پہنچ گئی تھی اور روزمرہ کی اموات پانچ سے بڑھ کر 47 ہو گئی تھیں جبکہ روزانہ کے کیسز 600 سے 3 ہزار تک پہنچ گئے تھے۔وزیر تعلیم نے کہا کہ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم نے تعلیمی ادارے بند کیے کیونکہ ماہرین صحت اور ڈاکٹرز نے ہمیں بتایا کہ اسکول اور تعلیمی ادارے بند ہونے کا انفیکشن کی شرح پر واضح اثر پڑتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ 26 نومبر کو ہم نے تعلیمی اداروں کو بند کیا تو اس سے گراف کچھ نیچے آیا لیکن جدید اعدادوشمار کے مطابق مثبت کیسز کی شرح 7.14 سے کم ہوکر 6.10 پر آ گئی ہے اور یہ شرح ابھی بھی نسبتاً زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ شدید بیمار مریضوں کی تعداد ایک ہزار 952 سے بڑھ کر دو ہزار 339 ہو گئی ہے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر اموات کی شرح بھی 44 ہو گئی ہے۔انہوںنے کہاکہ روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہونے والے کیسز کم ہو کر 2 ہزار 300 تک پہنچے ہیں لیکن ابھی بھی انفیکشن کی شرح زیادہ ہے۔شفقت محمود نے کہا کہ ان تمام معاملات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک بات تو واضح ہے کہ تعلیم سے وابستہ تمام لوگوں کو اس بات کا شدید احساس ہے کہتعلیمی ادارے بند ہونے سے بچوں کے سیکھنے کی صلاحیت بہت نیچے چلی جاتی ہے اور پچھلے 8 سے 9 ماہ میں تعلیم کا بہت نقصان ہوا ہے لیکن ساتھ ساتھ ہمیں صحت کا بھی خیال رکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں صحت اور تعلیم میں توازن قائم کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کم سے کم رسک ہو اور ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رہے۔انہوںنے کہاکہ اس سلسلے میں یہ فیصلے کیے گئے ہیں کہ نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات ہونے ہیں اور صوبائی اور وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہےاس سال بغیر امتحان کے کسی بچے کو پاس نہیں کیا جائے گا جس طرح پچھلے سال کیا گیا تھا، اس لیے ضروری ہے کہ نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ 18 جنوری کو نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت کے لیے تعلیمی ادارے کھل جائیں گے اور ان کی تعلیم کا سلسلہ امتحان کی نسبت سے دوبارہ شروع ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعدیہ فیصلہ کیا گیا کہ 25 جنوری سے پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے لیے اسکول کھلنا تھے، اس کو ایک ہفتہ آگے کردیا گیا ہے اور اب پرائمری کے ساتھ ساتھ چھٹی، ساتویں اور آٹھویں جماعت کی کلاسیں 25 جنوری کے بجائے یکم فروری سے ہوں گی۔وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالے سے سابقہ فیصلے کو برقرار رکھا گیا ہے اور وہ بھی یکم فروری سے کھل جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ انفیکشن کی شرح مختلف شہروں میں مختلف ہے، کراچی، لاہور، پشاور، حیدرآباد جیسے آبادی کےبڑے مراکز میں انفیکشن کی شرح زیادہ ہے اور کچھ اور جگہوں پر انفیکشن کم نظر آتا ہے۔انہوںنے کہاکہ اگلے ہفتے نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعتوں کے لیے تعلیمی ادارے کھل جائیں گے لیکن اگلے ہفتے ہم نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں تمام ڈیٹا کا دوبارہ جائزہ لیں گے اور اس بات پر غور کیا جائے گا کہ جن شہروں میں انفیکشن کی شرح بہت زیادہ ہے، کیا وہاں پہلی تاریخ سے تعلیمی اداروں کو نہ کھولا جائے۔انہوں نے کہا کہ شہروں میں انفیکشن کی شرح کو دیکھتے ہوئے کوئی پالیسی مرتب کی جائے گی اور ممکن ہے کہ اگر کسی شہر میں انفیکشن ریٹ بہت زیادہ ہے تو وہاں تعلیمی ادارے نہ کھولے جائیں لیکن باقی جگہ کھول دیے جائیں گے۔


زیرو پوائنٹ

آخری موو

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎