جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

وزارت داخلہ کا نوٹس مولانا فضل الرحمن کا شدید ردعمل ، کھری کھری سنا دیں

datetime 7  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد /لاہور(این این آئی) جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے وزارتِ داخلہ کے سیاسی ومذہبی جماعتوں کی ملیشیا اور وردی کا نوٹس پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ وزارت داخلہ کا نوٹس بد نیتی پر مبنی ہے ۔ ایک انٹرویومیں جمعیت علمائے اسلام (ف)کے

سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ وزارت داخلہ کا نوٹس بدنیتی پر مبنی ہے۔ انہوںنے کہاکہ یہ سیاسی دبائو کے طور پر ایک رجسٹرڈ جماعت کو دباو میں لانے کی کوشش ہے۔ انہوںنے کہاکہ جان بوجھ کر ایک نان ایشو کو ایشو بنایا جارہا ہے، نوٹی فکیشن کے الفاظ نئے نہیں ہیں، اس کا کوئی بھائونہیں۔ انہوںنے کہاکہ ملیٹنٹ اور رضاکار میں فرق ہوتا ہے، رضاکار انصارالاسلام کے ہیں جو جے یو آئی کا ایک دستوری ونگ ہے۔ انہںنے کہاکہ رضاکار الیکشن کمیشن سے رجسٹرڈ ہیں، اس پرکبھی اعتراض نہیں کیا گیا، رضاکار جے یو آئی ف کے دستور کا حصہ ہیں۔ انہوںنے کہاکہ 2001میں ہم نے لاکھوں کے جلسے کیے، ہمارے رضاکاروں کی پلاننگ کو اس وقت کے وزیرداخلہ نے سراہا۔ انہوں نے کہاکہ 2017 میں بھی ہم نے جلسے کیے، انصارالاسلام کے رضاکاروں نے سکیورٹی کی، آزادی مارچ میں بھی انہی رضاکاروں نے سکیورٹی دی، ایک گملا تک نہیں ٹوٹا، ڈنڈے کی کوئی رجسٹریشن نہیں ہوتی، نا ہی لائسنس ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ

ایسے نوٹی فکیشن صرف سیاسی دباو کیلئے ہوتے ہیں۔دریں اثنا وفاقی وزارت داخلہ نے صوبائی حکومتوں کو سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی تشکیل دی گئی ”ملیشیاز”کے افعال کا جائزہ لینے کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کردی۔اس سلسلے میں سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر

کی جانب سے چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چیف سیکریٹریز کو مراسلہ ارسال کیا گیا۔مراسلے میں کہا گیا کہ ‘مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ کچھ سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اپنی ملیشیاز قائم کر رکھی ہیں جو نہ صرف وردی پہنتی ہیں بلکہ مسلح افواج یا قانون

نافذ کرنے والے اداروں کی طرح ان میں درجہ بندی بھی ہے۔مراسلے میں مزید کہا گیا کہ یہ ملیشیاز اپنے آپ کو ایک عسکری تنظیم کی طرح سمجھتی ہیں جو آئین کی دفعہ 256 اور نیشنل ایکشن پلان کے نکات نمبر 3کی سنگین خلاف ورزی ہے۔مراسلے میں اس بات پر تشویش کا اظہار

کیا گیا کہ اس قسم کی چیزوں کو اگر دیکھا نہ جائے تو یہ سکیورٹی کی پیچیدہ صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں، اس کے علاوہ اس مسئلے کا ملک کے قومی اور بین الاقوامی تشخص پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔سیکرٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ اس طرح کی تنظیمیں دیگر سیاسی اور مذہبی

جماعتوں کے لیے غلط مثال قائم کررہی ہیں اور دیگر جماعتیں بھی اس طرح کے افعال کرسکتی ہیں جس سے امن و عامہ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔مراسلے میں کہا گیا کہ مذکورہ بالا صورتحال کے تناظر میں تمام صوبائی حکومتوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ اس خطرے کا فوری جائزہ لیں اور ان کے افعال اور مزید اس قسم کی ملیشیاز کی تشکیل پر نظر رکھیں اور اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔ساتھ ہی وفاقی حکومت کی جانب سے ضرورت پڑنے پر ہر قسم کی معاونت بھی فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…