پشاور جلسے میں ممکنہ حملے کا خدشہ منصوبہ بندی کس نے کی ؟کال ٹریس کر لی گئی

  اتوار‬‮ 22 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  14:44

پشاور( آن لائن )پشاور جلسے میں ممکنہ دہشت گرد حملے کے خدشے کے باعث جلسہ گاہ کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے ۔ میڈیا ذرائع کے مطابق حساس اداروں کی جانب سے تھریٹ الرٹ جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق ٹی ٹی پی کی ایک کال ٹریس کی گئی ہے جس سے پشاورجلسے پر حملے کی منصوبہ بندی کا علم ہوا ہے ۔ حساس اداروں کی جانب سے جلسسہ منتظمین اور پارٹی سربراہان کو آگاہ کردیا گیا ہے ۔جلسے پر حملے کے خدشے کے باعث رنگ روڈ پر موجود تمام دکانیں اور پٹرول پمپس بند کروا دیئے گئے ہیں


۔ جلسہ گاہ کی پارکنگ بھی جلسہ گاہ سے ڈیڑھ کلو میٹر دور بنائی گئی ہے ۔ حملے کی اطلاع ملنے کے بعد جلسہ گاہ کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے ۔ سیاسی لیڈران کے علاوہ کسی بھی شخص کی گاڑی کو جلسہ گاہ تک جانے کی اجازت نہیں ہوگی ۔جلسے کی کوریج کے لیے موجود میڈیا کی گاڑیوں کی بھی ڈی بی کلیئرنس کی گئی ہے ۔ٹی ٹی پی کی جانب سے ممکنہ حملے کے خطرے کے باعث رنگ روڈ کو موٹروے تک بند کردیا گیا ہے، حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق حملہ جلسہ گاہ یا اس کے اطراف میں ہو سکتا ہے ۔ کچھ دن قبل نیکٹا کی جانب سے بھی پشاور میں دہشتگرد حملے کا تھریٹ الرٹ جاری کیا گیا تھا ۔ واضح رہے کہ پی ڈی ایم نے آج پشاور میں جلسے کا اعلان کیا تھا، جہاں رنگروڈ پر پنڈال سجا دیا گیا ہے ۔کارکنان اور رہنماں کی آمد بھی شروع ہو چکی ہے ۔ جبکہ مرکزی قائدین مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو اور مریم نواز بھی پشاور پہنچ گئے ہیں ۔ پشاور میں بلور ہاس میں تمام سربراہان کے لیے ظہرانے کا انتظام کیا گیا ہے ، غلام بلور نے تمام رہنمائوں کااستقبال کیا۔ اس موقع پر غلام بلور نے مریم نواز سے میاں نواز شریف کی طبیعت کے متعلق بھی دریافت کیا ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎