منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

عوام جائے بھاڑ میں حکومتی وزراء ، مشیر وں اور معاون خصوصی کی گاڑیوں کے ایندھن پر 4 کروڑ 68 لاکھ، مرمت پر 3 کروڑ 88 لاکھ خرچ

datetime 21  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزرا کی گاڑیوں کے ایندھن پر 4 کروڑ 68 لاکھ،مرمت پر 3 کروڑ 88 لاکھ خرچ ،وزرا ، مشیر وں اور معاون خصوصی کے پاس گاڑیوں کی تفصیلات بھی سینٹ میں پیش ،روزنامہ جنگ کے مطابق وقفہ سوالات کے دوران صابر شاہ کے سوال

کے تحریری جواب میں وزیر انچارج کابینہ ڈویژن نے بتایا کہ چیئرمین سینٹ اور سپیکر کے پاس 2017 ماڈل کی 4608 سی سی کی بلٹ پروف گاڑیاں ہیں۔شہزاد اکبر ، زلفی بخاری ، شیخ رشیدکے پاس ایک 1800 سی سی اور ایک 4608 سی سی بلٹ پروف گاڑی ہے، علی زیدی کے پاس 4608سی سی،سیکرٹری داخلہ کے پاس 4600 سی سی بلٹ پروف گاڑی ہے۔میاں محمد سومرو ، علی محمد خان کے پاس 3000سی سی گاڑیاں ہیں ، محمد شبیر علی کے پاس 2800سی سی ، شہریار آفریدی ، پرویز خٹک ، اعجاز شاہ ، اسد عمر ، مراد سعید ، شفقت محمود ، طارق بشیر چیمہ ، عمر ایوب ، رزاق دائود ، ڈاکٹر فیصل سلطان ، زرتاج گل ، محمد صابر علی ،فیصل واوڈا ،بابر اعوان ، غلام سرور خان، شہزاد ارباب ، صاحبزادہ محمود سلطان ،ڈاکٹر معید یوسف ، فواد چوہدری ، فخر امام ، حماد اظہر ، شہزاد قاسم ،ندیم افضل چن ،شبلی فراز، شہباز گل ، عاصم سلیم باجوہ ، شاہ محمود قریشی،ڈاکٹر وقار مسعود ، عبدالحفیظ شیخ ، خسرو بختیار

، زبیدہ جلال ، علی امین گنڈا پور، ڈاکٹر عشرت حسین ، ڈاکٹر ثانیہ نشتر ، سید امین الحق ، تابش گوہر کے پاس 1800 سی سی گاڑیاں ہیں۔گاڑیوں پر گزشتہ 3سال میں ایندھن پر 4 کروڑ 68 لاکھ،مرمت پر 3 کروڑ 88 لاکھ روپے اخراجات آئے،گاڑیوں کی مجاز کمیٹی کی

جانب سے منظور کردہ 29گاڑیوں پر مشتمل فلیٹ کابینہ ڈویژن کے جنرل پول کے قبضے میں ہے ، جن پر گزشتہ تین سالوں کے دران ایندھن و دیکھ بھال پر تقریباً 24 ملین روپے خرچ آیا، گاڑیوں کے مرکزی پول میں مختلف اقسام کی 58گاڑیاں ہیں جن میں 1800سی سی تا 6ہزار سی سی تک شامل ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…