جو قومیں آگے کا سوچتی ہیں وہ ترقی کرتی ہیں، بڑے فیصلے کرنے سے گھبرانے والی قوم بڑی نہیں بن سکتی، عمران خان کا دھواں دھار خطاب

  بدھ‬‮ 15 جولائی‬‮ 2020  |  16:05

چلاس ( آن لائن) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جو قومیں آگے کا سوچتی ہیں وہ ترقی کرتی ہیں، بڑے فیصلے کرنے سے گھبرانے والی قوم بڑی نہیں بن سکتی، پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی بھرپور سہولیات موجود ہیں تاہم غلط فیصلوں سے ملک کی صنعتی ترقی کو نقصان پہنچا، ہم نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔دیامر بھاشا ڈیم ملک کا سب سے بڑا اور تیسرا بڑا ڈیم ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چلاس میں دیامر بھاشا ڈیم کے دورے کے بعد عوامی اجتماع سے خطاب کرتے


ہوئے کیا ۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے انسانوں پر سرمایہ کرتی ہیں، اس طبقے پر خرچ کرتی ہیں جو پیچھے رہ گئے ہوں جب قومیں آگے کا سوچتی ہیں تو ترقی کرتی ہیں، وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو مشکل فیصلے کرتی ہیں، کبھی بھی اس قوم نے بڑا کام نہیں کیا جو مشکل فیصلوں سے گھبراتی ہیں۔ بڑے فیصلے ہی بڑی قومیں بناتی ہیں اور تیسری اور سب سے اہم چیز یہ ہے کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے انسانوں کی قدر کرتی ہیں، ان پر سرمایہ کرتی ہیں، اس طبقے پر خرچ کرتی ہیں جو زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اسے انسانی ترقی کہتے ہیں کہ جتنا آپ اپنے انسانوں کی تعلیم، ان کی صحت، انصاف دینے، قانون کی حکمرانی پر کام کریں، دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں وہی قومیں آگے گئی ہیں جن میں یہ سب چیزیں موجود تھیں جو قوم دور اندیش ہوتی ہے وہ بڑی قوم بنتی ہے، چین کی ترقی دیکھ لیں کہ ان کے 30 سالہ منصوبے بنے ہوئے ہیں جو ان کی بہت بڑی خوبی ہے اور وہ اسی وجہ سے دنیا میں سب سے آگے نکل گئے ہیں 30 سال پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ چین اتنی ترقی کرے گا۔چین جس تیزی سے آگے جارہا ہے اس سے دیگر قومیں خوفزدہ ہوگئی ہیں، جب میں چین گیا اور کمیونسٹ پارٹی سے بات چیت کی تو معلوم ہوا کہ ان کی ترقی کا راز دور اندیشی ہے ہماری بدقسمتی ہے کہ یہاں قلیل المدتی فیصلے کیے گئے اور الیکشن سے پہلے مکمل ہونے والے منصوبوں پر زور دیا گیا تاکہ اگلے الیکشن میں وہ منصوبے دکھا کر ووٹ حاصل کیے جائیں۔عمران خان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دریاؤں کی نعمت دی ہے۔پاکستان وہ ملک ہے جہاں کے ٹو سے سمندر تک 12 (کلائمیٹک زونز) ہیں اور دریاؤں کی رفتار سے ہم بجلی بناسکتے تھے جب شروع میں ہماری ترقی ہوئی تو تربیلا اور منگلا ڈیم بنایا اور سستی بجلی پر پاکستان کی صنعت کھڑی ہونا شروع ہوگئی لیکن 90 کی دہائی میں درآمدی ایندھن پر بجلی بنانے کے فیصلے کیے گئے تو اس کا سب سے پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلا جاتا ہے جب کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلا جائے یعنی ملک میں کم ڈالر آئیں اور باہر زیادہ جائیں تو جیسے ہی خسارہ بڑھتا ہے روپیہ گرنا شروع ہوجاتا ہے۔جب روپیہ گرنا شروع ہوا تو ڈالر 5 روپے کا تھا اور آج کہاں پہنچ گیا ہے جب ہماری حکومت آئی تو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا 20 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ موجود تھا، اس کا مطلب روپے پر دباؤ بڑھنا تھا جس سے ڈالر بڑھتا گیا اور روپے کی قدر کم ہوئی۔وزیراعظم نے کہا کہ جب ہم نے غلط فیصلے کیے یعنی فرنس آئل درآمد کیا تو اس کا دباؤ ہماری کرنسی پر پڑنا شروع ہوا، روپے کی قدر کم ہونے سے درآمدی اشیا کی قیمتیں بڑھنا شروع ہوجاتی ہیں اور مہنگائی بڑھ جاتی ہے جب مہنگائی بڑھتی ہے تو سب سے زیادہ غریب آدمی متاثر ہوتا ہے۔غربت بڑھنا شروع ہوجاتی ہے اور ملک میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ چیزیں درآمد کرکے مشینری لگائے کیونکہ سب کچھ مہنگا ہوجاتا ہے۔انہو ںنے مزید کہا کہ اب ملک کا تیسرا بڑا ڈیم بننے جا رہا ہے، دیامر بھاشا ڈیم سے ترقی کی نئی منازل طے ہوں گی، ڈیم کیلئے اس سے بہتر جگہ ہو ہی نہیں سکتی، اس کے بعد ہم دریاؤں پر ڈیمز بنانے جا رہے ہیں، بجلی اور فرنس آئل سے بجلی پیدا کریں تو گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہوتا ہے کورونا کے باعث شٹ ڈاؤن سے بے روزگاری پھیلی، وزیراعلیٰ سیاحت کھولیں، این سی او سی کے ذریعے اجازت دے دیں گے۔ہم نے ملک بھر میں 10 لاکھ درخت لگانے ہیں۔قبل ازیں وزیرا عظم نے دیا مر بھاشا ڈیم سائٹ کا دورہ کیا جہاں وزارت آبی وسائل کے حکام نے عمران خان کو بریفنگ دی۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی، وفاقی وزیر فیصل واوڈا، سینیٹر فیصل جاوید، معاون خصوصی شہباز گل بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔ میگا منصوبے سے ساڑھے چار ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی جبکہ 81 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوگا۔ترجمان کے مطابق دیا مر بھاشا ڈیم پراجیکٹ اپنی تعمیر کے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، گزشتہ ایک سال کے دوران دو بڑے ڈیمز مہمند اور دیا مر بھاشا پر کام شروع کیا جاچکا ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کی واٹر، فوڈ اور انرجی سیکیورٹی کیلئے نہایت اہم منصوبہ ہے، دیا مر بھاشا ڈیم پراجیکٹ سال 2028-29 میں مکمل ہوگا۔ڈیم میں پانی کا ذخیرہ 81 لاکھ ایکڑ فٹ پانی کے ذخیرے سے 12 لاکھ 30 ہزار ایکڑ اضافی زمین سیراب ہو سکی گی۔ دیامر بھاشا ڈیم کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ساڑھے چار ہزار میگاواٹ ہے۔ منصوبہ نیشنل گرڈ کو ہر سال 18 ارب یونٹ پن بجلی فراہم کرے گا۔


موضوعات: