چینی بحران سے متعلق رپورٹ پیش کرنے پر واجد ضیاء کو سنگین نتائج کی دھمکیاں، مافیاز کا وزیراعظم عمران خان کے نام دوٹوک پیغام جاری

  پیر‬‮ 6 اپریل‬‮ 2020  |  14:01

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چینی بحران کی رپورٹ پیش کرنے والے واجد ضیا ء کو سنگین نتائج کی دھمکیاں ملنے لگیں ۔ تفصیلات کے مطابق سینئر تجزیہ کار صابر شاکر نے کہا ہے کہ واجد ضیاء کو یہ کہا گیااگر تحقیقات کا عمل نہ روکا گیاوزیراعظم کو بتا دیں کہ مزید بحران آ سکتا ہے کہ مارکیٹ سے چینی غائب کر دی جائے گی ۔ اور چینی کی قیمت 100روپے سے اوپر بھی جا سکتی ہے ۔ واجد ضیا نے تمام دھمکیوں کے باوجود ساری حقیقت سے وزیراعظم عمران خان کو آگاہ کر دیا ہے ۔ شہزاد اکبر وزیراعظم عمران خان اور واجد ضیاء


کے درمیان کوآرڈینیٹر کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے دھمکیوں کا علم ہونے پر واجد ضیاء کو ہدایت دی کہ آپ کسی کی دھمکیوں کی پروا نہ کریں بلکہ اپنا کام جاری رکھیں ، صابر شاکر کا کہنا ہے کہ چینی میں اس کرپشن کو قانونی شکل دی گئی ہے۔قبل ازیں ملک میں آٹے اورچینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آ گئی، بڑے سیاسی خاندان اربوں روپے کی سبسڈی لے اڑے، جہانگیر ترین کی شوگرملز 56 کروڑ روپے، خسرو بختیار کے بھائی کے گروپ 35 کروڑ روپے جبکہ گزشتہ پانچ سال میں شریف گروپ نے ایک ارب 40 کروڑ اور اومنی گروپ نے 90 کروڑ روپے کی سبسڈی حاصل کی، تحقیقاتی رپورٹ ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیاء نے وزیراعظم عمران خان کو پیش کر دی ہے۔ ہفتے کے روز ایف آئی اے نے ملک میں چینی او آٹے کی قلت اورقیمتوں میں اضافے سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کر دی ہے جسے وزیراعظم عمران خان نے جائزہ لینے کے بعد پبلک کرنے کا حکم دیا ہے، رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ شوگر ایکسپورٹ پالیسی سے فوائد حاصل کرنے والوں میں نامور سیاسی شخصیات شامل ہیں، حکومت کی چینی پر سبسڈی کا بڑا حصہ با اثر حکومتی شخصیات لے اڑیں، جبکہ سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین گروپ نے حاصل کیا ہے، ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین گروپ نے چینی پر سبسڈی کا 22 فیصد حصے کے ذریعے 56 کروڑ روپے کا فائدہ حاصل کیا ہے، خسرو بختیار کے بھائی عمر شہریار کے گروپ نے آٹے اور چینی سے 45 کروڑ کمائے، المعیز گروپ نے 40 کروڑ روپے کی سبسڈی حاصل کی ہے، چینی کی برآمد سے ملک میں قیمتوں میں اضافہ ہوا، چینی برآمد کرنے کا فیصلہ درست نہیں تھا،چینی برآمد کرنے والوں نے دو طرح سے پیسے بنائے، چینی پر سبسڈی کی مد میں رقم بھی وصول کی اور قیمت بڑھنے کا بھی فائدہ اٹھایا، شوگر ایڈوائزری بورڈ وقت پر فیصلے کرنے میں ناکام رہا، دسمبر 2018 سے جون 2019 تک چینی کی قیمت میں 16 روپے فی کلو اضافہ ہوا، اس عرصے کے دوران کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، موجودہ سٹاک اور ضرورت تقریبا برابر ہے، تھوڑا سا فرق ذخیرہ اندوزوں کو قیمتیں بڑھانے کا موقع فراہم کرے گا، حکومت اس معمولی فرق بھی ختم کرنے کے لیے چینی درآمد کرنے کی اجازت دے،مونس الہی اور چوہدری منیررحیم یارخان ملز، اتحاد ملز ٹو سٹار انڈسٹری گروپ میں حصہ دار ہیں، مسلم لیگ ن کے سابق ایم پی اے غلام دستگیر لک کی ملز کو 14 کروڑ کا فائدہ پہنچا۔ رپورٹ کے مطابق مئی 2014 سے جون 2019 کے درمیان پنجاب حکومت نے چینی برآمد پر سبسڈی دی جبکہ اسی عرصے کے دوران چینی کی قیمت میں 16 روپے فی کلو اضافہ ہوا، برآمد کنندگان نے 3 ارب روپے سبسڈی اور قیمت میں اضافے کا فائدہ اٹھایا جبکہ چینی کی برآمد کی اجازت دینے سے قیمت میں اضافہ ہوا اور بحران پیدا ہو اتھا، رپورٹ میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ 5 سال میں چینی کی برآمد پر مجموعی طور پر 25 ارب روپے سبسڈی دی گئی جس میں سے آروائی گروپ نے 4 ارب روپے، جہانگیر ترین گروپ نے 3 ارب، ہنزہ گروپ نے 2 ارب 80 کروڑ، فاطمہ گروپ نے 2 ارب 30 کروڑ کی شوگر ملز نے 90 کروڑ روپے کی سبسڈی حاصل کی ہے ای سی سی نے 10 لاکھ ٹن چینی برآمد کر نے کے بے وقت اجازت دی سیکرٹری فوڈ سیکیورٹی نے چینی برآمد پر تحفظات کا اظہار کیا اور شوگر ملز اور ہول سیل ڈیلرز کی جانب سے فارورڈؑ بائینگ اور سسٹے کی بھی نشاندہی کی تھی اوس اقدام سے رمضان المبارک میں چینی کی قیمت 100 روپے فی کلو گرام تک پہنچنے کا خدشہ تھا رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ کمیشن شوگر انڈسٹری کا فارنزک آڈٹ کرے گا جس سے آئندہ کے لئے ملک کے زرعی پالیسی مرتب کرنے میں مدد ملے گی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رپورٹ میں پنجاب میں گندم کا ہدف پورا نہ کرنے کی ذمہ داری سابق فوڈ سیکریٹری نسیم صادق اور سابقہ فوڈ ڈائریکٹر ظفر اقبال پر ڈالی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ پنجاب کے وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری پر صورتحال کے پیش نظر فوڈ ڈیپارٹمنٹ میں اقدامات نہ کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ کی جانب سے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)کو گندم خریداری کی صورتحال سے باخبر رکھا گیا، ملک میں گندم اور آٹے کے بحران میں فلورملز ایسوسی ایشن کی ملی بھگت ہے۔رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ 13 دسمبر 2019 کو مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے فلورملز پر ساڑھے 7 کروڑ روپے کا جرمانہ کیا، فلور ملز ایسوسی ایشن نے مسابقتی کمیشن کے جرمانے کو عدالت میں چیلنج کردیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان کا تحقیقات کا طریقہ کار بہت سست ہے، 13 سال میں مسابقتی کمیشن نے 27 ارب روپے جرمانے میں سے 3 کروڑ 33 لاکھ وصول کیا۔رپورٹ کے مطابق سندھ نے گندم نہیں خریدی جبکہ پنجاب کی جانب سے خریداری میں تاخیر کی گئی، ای سی سی کو بے خبر رکھنے پر صاحبزادہ محبوب سلطان معقول جواب نہ دے سکے۔رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخواہ گندم کی ضروریات کے حوالے سے پنجاب انحصار کرتاہے، ڈائریکٹر فوڈ پنجاب گندم خریداری میں پنجاب کی جانب سے تاخیر پر کمیٹی کو مطمئن نہ کرسکے، خیبر پختونخوا کے اس وقت سیکرٹری اور ڈائریکٹر فوڈ ڈیپارٹمنٹ گندم کی خریداری میں تاخیر کے ذمہ دار ہیں۔ خیبرپختون خوا میں میں گندم خریداری کے ٹارگٹ پورے نہ کرنے پر وزیر قلندر لودھی، سیکریٹری اکبر خان اور ڈائریکٹرسادات حسین ذمہ دار ہیں۔واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی وفاقی وزیر اور حکومتی جماعت کے رہنما پر بحران کی ذمہ داری کا الزام لگاچکی ہیں۔جنوری اور فروری میں ملک بھر میں گندم کے بحران کے باعث آٹے کی قیمت 70 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بحران پر قابو پانے کے لیے 3 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی ہے تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ درآمد شدہ گندم آتے آتے مقامی سطح پر گندم کی فصل تیار ہوجائے گی اور پھر گندم کی زیادتی کی وجہ سے ایک نیا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے بھی آٹے کے بحران اور قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے گندم ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی تھی۔اس حوالے سے وزیراعظم نے بحران کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی اور وزرا کو بحران کی وجوہات جاننے کا ٹاسک سونپا تھا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کو ملک میں جاری آٹا بحران سے متعلق رپورٹ بھجوادی گئی ہے جس کے مطابق آٹا بحران باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت پیدا کیا گیا جس میں افسران اور بعض سیاسی شخصیات بھی ملوث ہیں۔آٹے کے ساتھ ملک میں چینی کا بحران بھی سر اٹھانے لگا تھا جس کے باعث وفاقی حکومت نے چینی کی برآمد پر فوری طور پر پابندی لگانے اور چینی کی درآمد کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)نے چینی درآمد کرنے کی سمری (تجویز)مسترد کرتے ہوئے چینی برآمد کرنے پر بھی پابندی لگادی ہے۔دریں اثناء جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی طرف سے دو انکوائریز کمیٹیاں ڈی جی ایف آئی اے کی سربراہی میں تشکیل دی گئیں جنہوں نے گندم اور آٹے کے معاملے اور چینی کی قیمتوں میں اضافے کا جائزہ لیا۔ دونوں کمیٹیوں کی طرف سے انکوائری رپورٹس پیش کی گئیں۔ تاہم مزید وضاحت کے لیے اضافی سوالات دیئے گئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اور وزیراعظم عمران خان شفافیت اور احتساب کو جمہوریت کا بنیادی اصول اور گڈ گو رننس کا خاصا سمجھتے ہیں اور اس لیے وزیراعظم عمران خان نے دونوں کمیٹیوں کی رپورٹس اور اضافی سوالات کے جوابات عوام کے لیے جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے تحقیقاتی دائرہ کار کو وفاقی کابینہ نے بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا اور انکوائری کمیشن ایکٹ 2017ء کے تحت انکوائری کمیشن کا درجہ دے دیا گیا تھا جوکمیشن فائنڈنگ فرانزک کا تجزیہ کررہا ہے۔ کمیشن 25اپریل تک اپنا کام مکمل کرلے گا جو کے عوام کے لیے جاری کردی جائیں گی۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت کے تحت وفاقی حکومت کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمداور اس ضمن میں دیگر ضروری اقدامات کرے گی۔


موضوعات: