جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

2020پاک فضائیہ کیلئے منحوس ثابت ،جانتے ہیں اب تک کتنے طیارے گر کر تباہ ہوچکے؟

datetime 11  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن )2020میں پاک فضائیہ کے 5طیارے گر کر تباہ ہوچکے ، گزشتہ ماہ بھی پاک فضائیہ کے دو طیارے دوران پرواز گر کر تباہ ہو گئے تھے۔ 12 فروری کو خیبر پختونخوا کے علاقے تخت بائی مردان کے قریب پاک فضائیہ کا طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا۔

اس سے قبل 7 فروری کو صوبہ پنجاب کے علاقے شورکوٹ کے قریب پاک فضائیہ کا طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا، جس میں پائلٹ محفوظ رہا تھا جبکہ جنوری میں بھی پاک فضائیہ کے دو طیارے گر کر تباہ ہوئے تھے،یاد رہے کہ آج اسلام آباد میں شکر پڑیاں کے قریب چاند تارہ جنگل میں پاک فضائیہ کے زیر استعمال جنگی طیارہ ایف-16 گر کر تباہ ہوگیا۔پاک فضائیہ کے ترجمان کی جانب سے حادثے کے حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’پاک فضائیہ افسوس کے ساتھ رپورٹ کررہی کہ اسلام آباد میں شکر پڑیاں کے قریب پی اے ایف کا ایف-16 طیارہ 23 مارچ پریڈ کی ریہرسل کے دوران گر کر تباہ ہوگیا‘۔ترجمان نے حادثے میں طیارے کے پائلٹ ونگ کمانڈر نعمان اکرم کے شہید ہونے کی تصدیق کردی تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ حادثے کے وقت پائلٹ طیارے سے نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے یا نہیں ۔بیان میں کہا گیا کہ ’ریسکیو ٹیمز کو طیارہ تباہ ہونے کے مقام پر روانہ کردیا گیا اور ایئر ہیڈکوارٹرز نے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے ایک بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا ہے‘۔پاک فضائیہ کے بیان میں طیارہ حادثے کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کے حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا تاہم پاک فضائیہ کے ترجمان نے کہا کہ ’ہم نقصانات کا اندازہ لگارہے ہیں‘۔

رپورٹ کے مطابق حادثے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ ڈاکٹرز، طبی عملہ، فائر بریگیڈ گاڑیاں اور ایمبولینسز جائے حادثہ پر امدادی کارروائیوں کے لیے پہنچ گئے۔رپورٹس کے مطابق جائے حادثہ سے دھواں اٹھتے دور سے دیکھا گیا تاہم طیارے گرنے سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفاعت نے حادثے کے بارے میں کہا کہ طیارہ گرنے سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…